Nature Impact Factor

Wednesday, May 3, 2023

[New post] مشرق وسطیٰ میں امریکی زوال اور چین کی نئی سافٹ پاور

Site logo image KHAWAJA UMER FAROOQ posted: "رواں ماہ امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز کے دورۂ سعودی عرب کے بعد میں سوچ رہا ہوں کہ کیا امریکہ اپنے محدود نقطہ نظر سے ہٹ کر بھی مشرق وسطیٰ کے معاملات سے آگاہ ہے۔ اپنے دورے کے دوران سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے مبینہ طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ مح" Pakistan Insider

مشرق وسطیٰ میں امریکی زوال اور چین کی نئی سافٹ پاور

KHAWAJA UMER FAROOQ

May 3

رواں ماہ امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز کے دورۂ سعودی عرب کے بعد میں سوچ رہا ہوں کہ کیا امریکہ اپنے محدود نقطہ نظر سے ہٹ کر بھی مشرق وسطیٰ کے معاملات سے آگاہ ہے۔ اپنے دورے کے دوران سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے مبینہ طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو بتایا کہ ریاض کی جانب سے واشنگٹن کے علاقائی مخالفین ایران اور شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے امریکہ کو 'اندھیرے میں رکھا' گیا۔ ان ریمارکس کو اوباما انتظامیہ میں ولیم برنز کے کردار اور ایران کے بارے میں نئی امریکی پالیسی کی تشکیل کے تناظر میں انتہائی ستم ظریفی قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں واشنگٹن نے عراق (2003 سے) اور افغانستان (2001-2021) میں غلطیاں کیں۔ 2009 میں ولیم برنز نے وضاحت کی تھی کہ ایران کو ایک اہم علاقائی کھلاڑی تسلیم کرتے ہوئے، ایرانی حکومت کو نہیں بلکہ اس کے رویے کو تبدیل کرنے کے لیے 'ہمارا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ایرانی زیادتیوں کو کم کرتے ہوئے ایرانی اثر و رسوخ کے ساتھ رہنے کے لیے ایک طویل مدتی بنیاد تلاش کریں۔'

ولیم برنز نے 14 سال قبل اس پالیسی کی وکالت کی تھی جو 2023 میں ایران کے بارے میں سعودی نقطہ نظر کے قریب تر ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ امریکہ کسی بیرونی رکاوٹ کے بغیر رابطے کی پالیسی کے ذریعے ایرانی طرز عمل کو تبدیل کرنے کی اپنی صلاحیت میں درحقیت ناتجربہ کار تھا۔ آج، ایران کے بارے میں سعودی نقطہ نظر سے لگتا ہے کہ ایران کے فیصلہ سازی کے عمل پر چین کا اثر و رسوخ اتنا مضبوط ہے کہ بات چیت کی پالیسی کے لیے راہیں کھول سکتا ہے۔ تاہم، سعودی نقطہ نظر صرف اس امید پر مبنی نہیں کہ روابط ایران کی جوہری، فوجی اور علاقائی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔ ڈیموکریٹک اور رپبلکن انتظامیہ کی جانب سے ایران کے متعلق اپنی پالیسیوں میں بار بار تبدیلیوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ یوکرین جنگ کی معاشی قیمت، مسئلہ فلسطین کے حل میں ناکامی، نام نہاد عرب سپرنگ کی حمایت اور داخلی انتشار نے علاقائی ممالک میں امریکی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا۔

اس کے مقابلے میں مختلف ممالک کے اندر چینی سرمایہ کاری پر غور کریں، جس نے بیجنگ کے لیے سافٹ پاور سے جغرافیائی معاشیات اور جغرافیائی سیاست کی طرف منتقل ہونے کی راہ ہموار کی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں چین کے عروج کو تمام علاقائی ممالک کے ساتھ بیجنگ کے اقتصادی شراکت داری کے نقطہ نظر سمجھنا ہو گا۔ یہ اقتصادی نقطہ نظر کمزور علاقائی حریفوں جیسا کہ 2001 میں طالبان اور 2003 میں صدام حسین حکومت کے خلاف فوجی طاقت دکھانے کی امریکی پالیسی سے بہت مختلف ہے۔ جیسا کہ رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے ٹوئٹر پر وضاحت کی: 'چین نے چالاکی کی بجائے معاشی طاقت دکھا کر امریکی سلطنت کو نکال باہر کیا ہے۔ گذشتہ ایک دہائی میں ہمارے ملک نے سڑکوں، بندرگاہوں، پلوں اور ہوائی اڈوں پر بمباری کرنے میں کھربوں خرچ کیے۔ چین نے اتنی ہی رقم ترقی پذیر ممالک میں ان کی تعمیر پر لگائی۔' مزید برآں، اوباما دور (2009-2017) کے بعد سے، مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی کے رد عمل سے واشنگٹن کے علاقائی شراکت دار الجھن کا شکار ہیں۔

نام نہاد 'عرب سپرنگ' کے دوران اپنے علاقائی اتحادیوں کے لیے امریکی حمایت کی کمی اور خطے میں سماجی افراتفری کے وقت تہران کے ساتھ مفاہمت کے خیال نے اس کے خلیجی اتحادیوں کی اکثریت کو خودمختاری اور تنوع پر مبنی ایک نئی خارجہ پالیسی ڈھونڈنے پر مجبور کیا۔ جنگوں کے ذریعے خطے کو تبدیل کرنے میں نیو کنزرویٹو ناکامی اور خطے میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کو ترجیح دیے بغیر امریکی اثر و رسوخ کو فروغ دینے کا ڈیموکریٹک نقطہ نظر، دونوں اس کے علاقائی زوال کو تیز کرنے والے عوامل رہے ہیں۔ مزید برآں، براک اوباما کی علاقائی پالیسی جس کی بنیاد خلیجی ریاستوں کے بارے میں تنقیدی نقطہ نظر پر تھی اور ساتھ ہی جارج ڈبلیو بش انتظامیہ کے تحت علاقائی جنگوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی ساکھ کم کی۔ جنگی جنون اور امریکی اخلاقی برتری کے احساس کے علاوہ دنیا بھر، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے وقار پر وہاں کی داخلی بحثوں کے تباہ کن اثرات پر غور کرنا ہو گا۔

ایران کے بارے میں اوباما کے پالیسی جائزے کے بعد سے واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے درمیان ایرانی مسائل پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا، لہٰذا خطے میں اب یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ڈیموکریٹس کی علاقائی پالیسی کا تعین ان کی اس خواہش سے ہو گا جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات کے برعکس کرنے کی ہے۔ اس امریکی داخلی تناظر میں ٹرمپ انتظامیہ کے تحت سعودی امریکہ تعلقات کا مثبت ماحول بائیڈن انتظامیہ کے آغاز میں سرد اور مزید کشیدہ ہو گیا۔ اس تعصب پسندی نے اس علاقائی تاثر کو تقویت دی کہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی، علاقائی مسائل اور خدشات کو حل کرنے کی کسی بھی حقیقی خواہش سے زیادہ داخلی انتشار کی عکاس ہے۔ وہ نقطہ نظر جس کا محور امریکہ ہو، اب اس خطے کے ممالک کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اس کے برعکس، افغانستان اور عراق میں امریکہ کی ماضی کی غلطیوں کو دیکھتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ کو چاہیے کہ اپنے علاقائی شراکت داروں سے مشورہ لے تاکہ امریکی اثر و رسوخ کو بہتر بنایا جا سکے اور جنگوں کے بعد کھوئے ہوئے کچھ وقار کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔

لہٰذا ایرانیوں اور ڈیموکریٹکس کے لیے یہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری لگتا ہے کہ وہ اپنی اندرونی بحثوں سے نکل کر ایک نئی علاقائی پالیسی تشکیل دیں جو خطے کی سماجی و ثقافتی تبدیلی کے عین مطابق ہو۔ یہ واشنگٹن میں سیاسی دھڑوں کے قلیل مدتی اندرونی مفادات کے بجائے سیاسی استحکام اور اقتصادی فائدہ مند نقطہ نظر کی حمایت میں ہونی چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو جغرافیائی سیاست اور سافٹ پاور دونوں کے لحاظ سے چین کا عروج جاری رہے گا۔ 

اس تحریر کے مصنف ڈاکٹر محمد السلمی بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ فار ایرانی سٹڈیز کے صدر ہیں۔

ڈاکٹر محمد السلمی  

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

Comment
Like
Tip icon image You can also reply to this email to leave a comment.

Unsubscribe to no longer receive posts from Pakistan Insider.
Change your email settings at manage subscriptions.

Trouble clicking? Copy and paste this URL into your browser:
https://pakistaninsiders.wordpress.com/2023/05/03/%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%b2%d9%88%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%86%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6/

WordPress.com and Jetpack Logos

Get the Jetpack app to use Reader anywhere, anytime

Follow your favorite sites, save posts to read later, and get real-time notifications for likes and comments.

Download Jetpack on Google Play Download Jetpack from the App Store
WordPress.com on Twitter WordPress.com on Facebook WordPress.com on Instagram WordPress.com on YouTube
WordPress.com Logo and Wordmark title=

Learn how to build your website with our video tutorials on YouTube.


Automattic, Inc. - 60 29th St. #343, San Francisco, CA 94110  

at May 03, 2023
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

No comments:

Post a Comment

Newer Post Older Post Home
Subscribe to: Post Comments (Atom)

[New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio

...

  • [New post] Jungle Waterfall
    Markosun posted: " Tumpak Sewu, also known as Coban Sewu, is a tiered waterfall that is located between the Pronojiwo D...
  • [New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio
    ...
  • [New post] What to do with a hole in the floor?
    PMu posted: "I post a drawing everyday so make sure you follow so you don't miss out on tomorrow's doodle! I...

Search This Blog

  • Home

About Me

Natureimpactfactor
View my complete profile

Report Abuse

Labels

  • 【ANDROID STUDIO】Await and Async
  • 【FLUTTER ANDROID STUDIO and IOS】animated opacity
  • 【GAMEMAKER】Parallax
  • 【PYTHON】Mean Estimated Accuracy Logistic Regression
  • 【Visual Studio Visual Csharp】Mutex
  • 【Visual Studio Visual VB net】Map Network Drive Wizard

Blog Archive

  • August 2023 (660)
  • July 2023 (866)
  • June 2023 (796)
  • May 2023 (775)
  • April 2023 (809)
  • March 2023 (905)
  • February 2023 (834)
  • January 2023 (905)
  • December 2022 (865)
  • November 2022 (878)
  • October 2022 (940)
  • September 2022 (786)
  • August 2022 (745)
  • July 2022 (823)
  • June 2022 (903)
  • May 2022 (1064)
  • April 2022 (967)
  • March 2022 (786)
  • February 2022 (638)
  • January 2022 (726)
  • December 2021 (1190)
  • November 2021 (3136)
  • October 2021 (3242)
  • September 2021 (3141)
  • August 2021 (3246)
  • July 2021 (3249)
  • June 2021 (3143)
  • May 2021 (301)
Powered by Blogger.