Nature Impact Factor

Wednesday, May 3, 2023

[New post] اداروں کی بالادستی کی جنگ

Site logo image KHAWAJA UMER FAROOQ posted: "پاکستان کو یہ طے کرنا ہے کہ یہاں افراد یا گروہوں کے مقابلے میں اداروں کی بالادستی قائم کرنی ہے۔ اداروں کی بالادستی سے مراد موجود آئین اور قانون کے دائرہ کار میں اداروں کی فعالیت سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ آئین اور قانون پر عملدرآمد کی بنیا د پر ہی ہم سیاس" Pakistan Insider

اداروں کی بالادستی کی جنگ

KHAWAJA UMER FAROOQ

May 3

پاکستان کو یہ طے کرنا ہے کہ یہاں افراد یا گروہوں کے مقابلے میں اداروں کی بالادستی قائم کرنی ہے۔ اداروں کی بالادستی سے مراد موجود آئین اور قانون کے دائرہ کار میں اداروں کی فعالیت سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ آئین اور قانون پر عملدرآمد کی بنیا د پر ہی ہم سیاست, جمہوریت اور آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس اگر ہم نے افراد یا جماعتوں کی بنیاد پر مختلف نوعیت کی آئینی، سیاسی اور قانونی تشریح کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہے تو اس کے نتیجہ میں سیاسی مفادات کو فوقیت دی جاتی ہے۔ کیونکہ ہر فریق اپنی اپنی تشریح کی مدد سے اپنے ذاتی یا جماعتی مفادات کے تحت آگے بڑھتا ہے اور اس کا نتیجہ موجود آئین اور قانون کو پس پشت ڈال کر ہم بلاوجہ ٹکراو یا تناو کی سیاست کو جنم دیتے ہیں۔ ہمارا ایک بڑا المیہ سیاسی، سماجی ، انتظامی ، آئینی اور قانونی اداروں سمیت معیشت کے معاملات میں اداروں کی اہمیت محض کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یعنی ادارے کمزور افراد طاقت ور ہو گئے ہیں۔ جب افراد کے پاس ریاست یا اداروں کے مقابلے میں طاقت ہو گی تو اپنے مخصوص مفاد یا ایجنڈا کو افراد انفرادی سطح پر اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ اداروں کی بالادستی کی ایک بڑی ناکامی کی وجہ سیاسی نوعیت کی مداخلتیں ہیں اوریہ عمل اداروں کی کمزوری کا سبب بنتا ہے۔ ہمارے ریاستی اور حکومتی یا سیاسی و جمہوری ایجنڈے کی سطح پر '' اداروں کی بالادستی کی جنگ'' کو ترجیحی حیثیت نہیں مل سکی۔

اس کی ایک وجہ یہ ہی ہے کہ اداروں کی بالادستی ہو گی تو اس کے نتیجہ میں افراد یا جماعتوں یا حکمران و ریاستی طبقے کو اداروں کی بالادستی کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بالادست طبقات یا فیصلہ سازی سے جڑے افراد خود کو کمزورکرنے کے بجائے ریاستی اداروں کو کمزور کر کے اپنی سیاست کو آگے بڑھاتے ہیں۔ سیاست و جمہوریت کی کامیابی میں ایک کنجی ادارہ جاتی مضبوطی کا تسلسل ہوتا ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر ہم اپنا سیاسی , جمہوری , آئینی اور قانونی مقدمہ کی ساکھ کو داخلی و خارجی محاذ پر قائم ہوتی ہے۔ اس وقت بھی پاکستان کے سیاسی بحران کو دیکھیں تو اس میں یہ ہی بحث موجود ہے کہ اداروں کی بالادستی کو کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف اپنے سیاسی معاملات کو اعلیٰ عدالتوں میں لے گئے ہیں۔ سیاسی و جمہوری ادارے جہاں سیاسی فیصلے بشمول انتخابات کے انعقاد یا نہ یا اس کے نہ ہونے کے بارے میں فیصلے ہونے تھے وہاں کچھ طے نہیں ہو سکا۔ پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ کی اہمیت کنجی کی ہے مگر یہاں ہم دیکھ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ بڑی فیصلہ سازی سے محروم ہے یا وہاں فریقین میں اعتماد سازی کا بحران ہے۔ 

انتخابات کا بحران پوری ریاستی یا حکومتی اداروں کے درمیان جاری ٹکراو کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس منظر میں تمام فریقین اپنی اپنی مرضی کا فیصلہ چاہتے ہیں اور مرضی کا فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں اداروں کو متنازعہ بنانا یا ان سے ٹکراؤ کی پالیسی بھی ہمارا ترجیحی ایجنڈا بن گیا ہے۔ پاکستان ایک ایسی نہج پر پہنچ گیا ہے جہاں بہت سی چیزیں کھل کر منظر عام پر آگئی ہیں۔ وہ تمام معاملات جو پس پردہ تھے آج وہ ہمیں سرعام بحث کا موضوع نظر آتے ہیں۔ وہ معاملات جو بہت حساس نوعیت کے تھے یا ادارے ان پر بھی لوگ اب کھل پر اپنی اپنی آرا کو پیش کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال غیر معمولی ہے اور ایسے میں غیر معمولی انداز میں ہی ہمیں مسئلہ کا علاج تلاش کرنا ہے۔ ہم یہ بنیادی بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم 2023 میں کھڑے ہیں۔ یہاں 1970-80 یا 1990 کی دہائی کی سیاست کا چال چلن نہیں چل سکے گا۔ آج کی دنیا ماضی کی دنیا سے مختلف ہے اوریہ صدی آزاری اظہار کی بھی ہے اور اپنی بات دوسروں تک پہنچانے یا اپنی بات کو طاقت ور لوگوں کے سامنے اجاگر کرنے کی بھی ہے ۔ اس کے لیے آج جدیدیت پر مبنی ابلاغ کے ذرایع ہیں اور ان آوازوں کو ہم اپنی ریاستی و حکومتی طاقت سے نہیں دبا سکتے۔

جو لوگ بھی سنجیدہ انداز میں ریاستی یا ملکی یا حکمرانی سے جڑے معاملات پر سوالات اٹھا رہے ہیں ان کو سنا جائے اور ان کو طاقت کے انداز میں دبانے کی پالیسی قومی مفاد کے برعکس ہے۔ ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ آج دنیا میں جو مختلف سطح پر ممالک کی سیاسی، انتظامی، قانونی، آئینی، معاشرتی اور معاشی ترقی کے اشاریوں کا جائزہ لیا جاتا ہے تو اس میں ایک بڑی فوقیت اداروں کی سطح پر مضبوطی یا بالادستی کو بھی دیکھا جاتا ہے جب کہ ہمارا مسئلہ طبقاتی بنیادوں پر ہے اور طاقتور یا کمزور افراد کے ساتھ اداروں کا طرز عمل یا سلوک میں تفریق پائی جاتی ہے۔ یہ عمل عام آدمی یا کمزور آدمی میں اداروں کے بارے میں منفی رویوں کو جنم دیتا ہے یا ایک بڑی خلیج بھی پیدا کرتا ہے۔ جب لوگوں کو یہ یقین ہو کہ ادارے ہمارے مقابلے میں طاقت ور افراد کے ساتھ کھڑے ہیں تو ان کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ ایسے میں لوگ اپنے حق کے لیے پھر متبادل راستے اختیار کرتے ہیں جو ریاست کی رٹ کو چیلنج بھی کرتا ہے۔ ہمارے ریاستی و حکومتی اداروں میں بیٹھے بڑے طاقت ور افراد بھی خود کو ریاست یا آئین کے تابع کرنے کے بجائے طاقتور طبقوں کا ملازم نہیں سمجھنا چاہیے۔

ان کے سامنے آئین اور قانون ہی بالادست ہونا چاہیے اوراسی کو بنیاد بنا کر ریاستی، حکومتی، آئینی اور قانونی فیصلوں کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ دنیا میں اداروں کی بالادستی کی جنگ کا مقدمہ کمزور ہے اور ہمارے اداروں کی ساکھ پر بہت سے سوالات ہیں۔ پاکستان میں اس وقت جتنی زیادہ سیاسی تقسیم یا پولورائزیش ہے اسے ہمیں کسی منفی سیاست کے لیے استعمال کرنے کے بجائے مثبت سیاسی تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اسی سیاسی تقسیم کو اس نقطہ پر لانا ہو گا کہ ہمیں پاکستان میں سیاست اور جمہوریت سے جڑی کامیابی یا معیشت کی بہتری کے لیے اداروں کو بالادست کرنا چاہیے۔ جو لوگ بھی اداروں کی بالادستی کے خلاف ہیں اور روائتی طور پر اداروں کو بالادست نہیں کرنا چاہتے ان کے خلاف آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہ کر مزاحمت کرنی چاہیے۔ پاکستان میں رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد یا اداروں کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ ان موجودہ حالات میں ذمے دارانہ کردار ادا کریں اور ان کا یہ کردار ملکی سطح پر اداروں کی بالادستی کی جنگ کو موثر، مربوط اور شفاف سمیت ممکن بنا سکے۔ ہمیں دنیا کے تجربات سے سیکھنا ہو گا کہ دیگر ممالک نے اپنے اپنے ممالک میں اداروں کی بالادستی کو کیسے یقینی بنایا اور کیسے طاقت سے طاقتور افراد بھی اداروں کے سامنے بلاتفریق جوابدہ ہوتے ہیں۔

پاکستان میں تبدیلی سے جڑے افراد کے لیے موجودہ حالات تاریخ ساز بھی ہیں اور تبدیلی کا ایک ماحول بھی موجود ہے کیونکہ موجودہ حالات میں جہاں ہمیں مختلف نوعیت کے سخت چیلنجز کا سامنا ہے وہیں ان سے نمٹنے کے لیے امکانات کا بھی ایک منظر نامہ ہے اور ان سے وہی ممالک فائدہ اٹھاتے ہیں جو خود کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں نہ صرف اپنے حالات کو تبدیل کرنا ہے بلکہ اس ملک میں موجود ان تمام خرابیوں کا بھی علاج کرنا ہے جسکی وجہ سے ہم آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں قومی یا ریاستی سطح پر ایک بڑے روڈ میپ کی درکار ہے جو تمام فریقین میں اتفاق رائے کو بھی پیدا کرے کیونکہ اتفاق رائے کی بنیاد پر ہی ہم کوئی مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے سکتے ہیں یا ان حکمت عملیوں پر عمل بھی کرسکتے ہیں، یہ ہی عمل قومی مفاد سے جڑا ہوا بھی ہے۔

سلمان عابد   

بشکریہ ایکسپریس نیوز

Comment
Like
Tip icon image You can also reply to this email to leave a comment.

Unsubscribe to no longer receive posts from Pakistan Insider.
Change your email settings at manage subscriptions.

Trouble clicking? Copy and paste this URL into your browser:
https://pakistaninsiders.wordpress.com/2023/05/03/%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%af%d8%b3%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d9%86%da%af/

WordPress.com and Jetpack Logos

Get the Jetpack app to use Reader anywhere, anytime

Follow your favorite sites, save posts to read later, and get real-time notifications for likes and comments.

Download Jetpack on Google Play Download Jetpack from the App Store
WordPress.com on Twitter WordPress.com on Facebook WordPress.com on Instagram WordPress.com on YouTube
WordPress.com Logo and Wordmark title=

Learn how to build your website with our video tutorials on YouTube.


Automattic, Inc. - 60 29th St. #343, San Francisco, CA 94110  

at May 03, 2023
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

No comments:

Post a Comment

Newer Post Older Post Home
Subscribe to: Post Comments (Atom)

[New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio

...

  • [New post] Jungle Waterfall
    Markosun posted: " Tumpak Sewu, also known as Coban Sewu, is a tiered waterfall that is located between the Pronojiwo D...
  • [New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio
    ...
  • [New post] What to do with a hole in the floor?
    PMu posted: "I post a drawing everyday so make sure you follow so you don't miss out on tomorrow's doodle! I...

Search This Blog

  • Home

About Me

Natureimpactfactor
View my complete profile

Report Abuse

Labels

  • 【ANDROID STUDIO】Await and Async
  • 【FLUTTER ANDROID STUDIO and IOS】animated opacity
  • 【GAMEMAKER】Parallax
  • 【PYTHON】Mean Estimated Accuracy Logistic Regression
  • 【Visual Studio Visual Csharp】Mutex
  • 【Visual Studio Visual VB net】Map Network Drive Wizard

Blog Archive

  • August 2023 (660)
  • July 2023 (866)
  • June 2023 (796)
  • May 2023 (775)
  • April 2023 (809)
  • March 2023 (905)
  • February 2023 (834)
  • January 2023 (905)
  • December 2022 (865)
  • November 2022 (878)
  • October 2022 (940)
  • September 2022 (786)
  • August 2022 (745)
  • July 2022 (823)
  • June 2022 (903)
  • May 2022 (1064)
  • April 2022 (967)
  • March 2022 (786)
  • February 2022 (638)
  • January 2022 (726)
  • December 2021 (1190)
  • November 2021 (3136)
  • October 2021 (3242)
  • September 2021 (3141)
  • August 2021 (3246)
  • July 2021 (3249)
  • June 2021 (3143)
  • May 2021 (301)
Powered by Blogger.