Nature Impact Factor

Monday, December 12, 2022

[New post] یورپی ممالک شہریت کو کیسے منظم کرتے ہیں

Site logo image KHAWAJA UMER FAROOQ posted: " پورے یورپ میں شہریت کے قوانین کافی مختلف ہیں۔ صرف چند یورپی ممالک ہی دہری شہریت رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ جرمنی ملک میں دوہری شہریت سے متعلق اصلاحات کے منصوبے پر بحث کر رہا ہے۔ دو پاسپورٹ، فاسٹ ٹریک نیچرلائزیشن، ''گولڈن ویزا'' اور دوہری یا ایک سے زیادہ شہ" Pakistan Insider

یورپی ممالک شہریت کو کیسے منظم کرتے ہیں

KHAWAJA UMER FAROOQ

Dec 12

پورے یورپ میں شہریت کے قوانین کافی مختلف ہیں۔ صرف چند یورپی ممالک ہی دہری شہریت رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ جرمنی ملک میں دوہری شہریت سے متعلق اصلاحات کے منصوبے پر بحث کر رہا ہے۔ دو پاسپورٹ، فاسٹ ٹریک نیچرلائزیشن، ''گولڈن ویزا'' اور دوہری یا ایک سے زیادہ شہریت پہلے ہی بہت سے یورپی ممالک میں روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہے۔ جرمنی اپنے ہاں شہریت کے قانون میں اصلاحات کے زریعے اس رجحان کی پیروی کر رہا ہے۔ صرف چند یورپی ممالک دوہری شہریت رکھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ جرمنی، نیدرلینڈز، آسٹریا، ایسٹونیا، بلغاریہ، اسپین، ناروے، لٹویا اور لیتھوانیا میں مستثنیات کے حوالے سے بہت سخت قوانین ہیں۔ کچھ یورپی قومیں اضافی شہریت کے امکان کو کاروباری ماڈل سمجھتی ہیں۔ یونان، ترکی، پرتگال، مالٹا اور بعض دیگر ریاستیں کچھ لوگوں کو رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے، کاروبار شروع کرنے یا کاروبار میں سرمایہ لگانے کے بدلے ''گولڈن ویزا'' اور رہائش کی پیشکش کرتے ہیں۔

پاسپورٹ کے راستے میں رکاوٹیں
نیچرلائزیشن کے راستے کو پورے یورپ میں بہت مختلف طریقے سے منظم کیا جاتا ہے۔ عالمی نقل مکانی اور پناہ گزینوں کی نقل و حرکت میں اضافے، بین القومی شادیوں میں اضافے اور ہنر مند کارکنوں کی وسیع قلت کے نتیجے میں بہت سے یورپی ممالک نے 2000 کی دہائی سے اپنے شہریت کے قوانین میں ترمیم کی ہے۔ بچوں کے لیے شہریت کا تعین ان کے نسب اور جائے پیدائش سے کیا جاتا ہے لیکن بالغ تارکین وطن کے لیے ضوابط مختلف ہوتے ہیں۔ نیچرلائزیشن کی راہ میں حائل رکاوٹیں فرانس، برطانیہ، پرتگال، پولینڈ، سویڈن، فن لینڈ اور بیلجیم میں نسبتاً کم ہیں۔ اگر تارکین وطن کی شادی یورپی شہریوں سے ہوتی ہے تو اس مدت کو کم کر کے تین سال کر دیا جاتا ہے۔ وہ نیچرلائزیشن کے بعد اپنی اصل شہریت بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، اٹلی، اسپین، بلغاریہ، جمہوریہ چیک اور سلووینیا میں تارکین وطن کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانونی اور مستقل طور پر کسی ملک میں کم از کم 10 سال تک مقیم ہوں تاکہ وہ نیچرلائزیشن کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں۔ اس عمل کے لیے آئرلینڈ، ہنگری، رومانیہ اور سلوواکیہ میں آٹھ سال جبکہ ڈنمارک میں نو سال درکار ہوتے ہیں۔

'متعدد شہریتوں کی فعالیت'
اگر جرمنی اپنی شہریت سے متعلق قانون سازی میں اصلاحات کرتا ہے تو یہ ملک ان اقوام کی صف میں شامل ہو جائے گا جو کم درجے کی نیچرلائزیشن کی وکالت کرتے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق اگر شہریت کا نیا قانون منظور ہو جاتا ہے تو یہ '' کثیر الملکی شہریتوں کی اجازت دے گا اور جرمن شہریت کے حصول کو آسان بنائے گا۔'' نئے قانون کے تحت بیرون ملک رہنے والے جرمن شہری جو ذاتی یا پیشہ ورانہ وجوہات کی بنا پر دوسری شہریت کے لیے درخواست دیتے ہیں تو اب انہیں اپنی جرمن شہریت چھوڑنے یا اسے برقرار رکھنے کے لیے درخواست نہیں دینا ہو گی۔ جرمن شہریت لینے والے ترک شہری ترک پاسپورٹ کے لیے دوبارہ درخواست دے سکیں گے۔

یورپ آنے کے قانونی طریقے
ایک وکیل اور ہجرت کے ماہر اونال زیران کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات التوا میں ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میرے لیے یہ ضروری ہے کہ یکساں سلوک کے اصول کی وجہ سے متعدد شہریت متعارف کرائی جائیں۔'' انہوں نے مزید کہا،'' بہت سے ترک خاندان جو 40 سال سے جرمنی میں مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں وہ اس بارے میں اپنے ساتھ امتیازی سلوک محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ آپشن بہت سے لوگوں کو پہلے ہی دستیاب ہے لیکن ان (ترکوں) کے لیے نہیں۔'' جرمنی میں جرمن شہریت کے علاوہ دوسری شہریت حاصل کرنے کے مختلف طریقے پہلے سے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر یورپی یونین کے شہریوں کو اپنی اصل شہریت رکھنے کی اجازت ہے۔ جرمنی میں غیر ملکی والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو اب 22 سال کی عمر تک قومیت کے بارے میں فیصلہ نہیں کرنا پڑتا ہے۔

جرمن شہریت حاصل کرنے والے بہت سے غیر ملکی اپنے پاسپورٹ رکھ سکتے ہیں کیونکہ ان کا اصل ملک انہیں شہریت چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا، جن میں بہت سے مہاجرین بھی شامل ہیں۔ جرمن وزارت داخلہ کے مطابق وزیر داخلہ نینسی فیزر کا جرمن شہریت کے قانون میں اصلاحات کا مسودہ ابھی تک داخلی جانچ مرحلے پر ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ اس بارے میں حتمی مسودہ ووٹنگ کے لیے جرمن پارلیمان یعنی بنڈسٹاگ میں کب جائے گا۔

آسٹرڈ پرانگے (ش ر⁄ ر ب)

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

Comment
Like
Tip icon image You can also reply to this email to leave a comment.

Unsubscribe to no longer receive posts from Pakistan Insider.
Change your email settings at manage subscriptions.

Trouble clicking? Copy and paste this URL into your browser:
https://pakistaninsiders.wordpress.com/2022/12/12/%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%be%db%8c-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c%d8%aa-%da%a9%d9%88-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%86%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba/

Powered by WordPress.com
Download on the App Store Get it on Google Play
at December 12, 2022
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

No comments:

Post a Comment

Newer Post Older Post Home
Subscribe to: Post Comments (Atom)

[New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio

...

  • [New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio
    ...
  • [New post] What to do with a hole in the floor?
    PMu posted: "I post a drawing everyday so make sure you follow so you don't miss out on tomorrow's doodle! I...
  • [New post] Jungle Waterfall
    Markosun posted: " Tumpak Sewu, also known as Coban Sewu, is a tiered waterfall that is located between the Pronojiwo D...

Search This Blog

  • Home

About Me

Natureimpactfactor
View my complete profile

Report Abuse

Labels

  • 【ANDROID STUDIO】Await and Async
  • 【FLUTTER ANDROID STUDIO and IOS】animated opacity
  • 【GAMEMAKER】Parallax
  • 【PYTHON】Mean Estimated Accuracy Logistic Regression
  • 【Visual Studio Visual Csharp】Mutex
  • 【Visual Studio Visual VB net】Map Network Drive Wizard

Blog Archive

  • August 2023 (660)
  • July 2023 (866)
  • June 2023 (796)
  • May 2023 (775)
  • April 2023 (809)
  • March 2023 (905)
  • February 2023 (834)
  • January 2023 (905)
  • December 2022 (865)
  • November 2022 (878)
  • October 2022 (940)
  • September 2022 (786)
  • August 2022 (745)
  • July 2022 (823)
  • June 2022 (903)
  • May 2022 (1064)
  • April 2022 (967)
  • March 2022 (786)
  • February 2022 (638)
  • January 2022 (726)
  • December 2021 (1190)
  • November 2021 (3136)
  • October 2021 (3242)
  • September 2021 (3141)
  • August 2021 (3246)
  • July 2021 (3249)
  • June 2021 (3143)
  • May 2021 (301)
Powered by Blogger.