Nature Impact Factor

Monday, December 12, 2022

[New post] تباہ حال معیشت اور ہمارے سیاست داں

Site logo image KHAWAJA UMER FAROOQ posted: " میں سخت حیران اور پریشان ہوں کہ تمام سیاست دانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ پوری قوم کو تگنی کا ناچ نچایا ہوا ہے، ہر طرف شطرنج کی سیاسی بازیاں آزمائی جا رہی ہیں۔ پہلے آرمی چیف کی تبدیلی کی آڑ میں میڈیا میں اس کو ہوا بنایا ہوا تھا، ہر صبح آرمی چیف کی ریٹائر " Pakistan Insider

تباہ حال معیشت اور ہمارے سیاست داں

KHAWAJA UMER FAROOQ

Dec 12

میں سخت حیران اور پریشان ہوں کہ تمام سیاست دانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ پوری قوم کو تگنی کا ناچ نچایا ہوا ہے، ہر طرف شطرنج کی سیاسی بازیاں آزمائی جا رہی ہیں۔ پہلے آرمی چیف کی تبدیلی کی آڑ میں میڈیا میں اس کو ہوا بنایا ہوا تھا، ہر صبح آرمی چیف کی ریٹائر منٹ کی تاریخ کو گو ل مول انداز میں گھمایا جا رہا تھا۔ باوجود اس کے کہ قمر جاوید باجوہ صاحب نے کہہ دیا تھا کہ وہ مزید توسیع نہیں چاہتے مگر پھر بھی سیاستدانوں کے دونوں دھڑے بلاوجہ توسیع کا راگ الاپتے رہے۔ جوں جوں 29 نومبر قریب آرہی تھی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اچانک لندن اپنے بڑے بھائی سے صلا ح مشورے کیلئے پہنچ گئے۔ پھر وزیر اعظم کو کوویڈ ہو گیا، پی ٹی آئی دھمکیوں پر اتر آئی۔ ادھر پھر مارچ شروع کر دیا گیا،عوام کو مختلف شہروں میں پہنچنےکے پیغامات دے دئیے گئے۔ پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی ڈٹ گئیں وہ سب لاہور میں سر جوڑ کر بیٹھ گئیں اور اعلان کیا کل تک نام بھجوا دیں ہم تیار ہیں۔

26 نومبر کو عمران خان نے پنڈی دھرنے کا اعلان کر کے سب کو پہنچے کے لئے کہہ دیا، اسلام آباد اور راولپنڈی کو کنٹینرز سے بند کر دیا گیا۔ صرف مقررہ میدان خالی چھوڑ دیا گیا، صبح نام پیش ہو ئے اور جنرل عاصم منیر کو چیف آف آرمی اسٹاف جبکہ جنرل ساحر شمشاد کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مقرر کر کے سمری صدر علوی صاحب کو بھجوا دی اور صدر نے سمری پر دستخط کر دئیے۔ خیر اسلوبی سے یہ مسئلہ طے ہوا، بھونچال ختم ہو گیا۔ اب ان تمام سیاستدانوں کو مل کر معیشت کی گرتی ہوئی دیوار کو روکنا چاہئے تھا مگر عمران خان نے اپنی تقریر کے آخر میں صوبائی اسمبلیاں جہاں پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں توڑنے کا بے وجہ شوشہ چھوڑ کر آبیل مجھے مار والا محاورہ دہرا دیا۔ اب کیا تھا پی پی پی کے بلاول بھٹو نے عمران خان کو لتاڑا، مولانا فضل الرحمان نے خاموشی توڑی اور کہنے لگے کہ عمران خان نے قوم کے نوجوانوں اور خواتین کو بگاڑ کر پاکستان کے مستقبل کو تاریک کر دیا۔ آصف علی زرداری نے قصدِ لاہور کیا تا کہ آخری معرکہ سر کیا جائے۔

ہماری وزیر اطلاعات مریم اورنگریب کیسے خاموش رہ سکتی تھیں وہ بھی میدان میں اتر آئیں، وزیر داخلہ بھی دھاڑتے ہوئے میدان میں اترے کہ اب ہم پنجاب میں گورنر راج لائیں گے، اسمبلی میں عدم اعتماد بھی ساتھ ساتھ آئے گی۔ اب پنجاب میدان کارزار بننے جا رہا ہے۔ چوہدری برادران تقسیم ہو چکے ہیں، مونس الٰہی اور چو ہدری پرویز الٰہی عمران خان کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں، آنے والے دنوں میں ان معرکوں میں کیا ہو گا۔ میں چیف آف آرمی اسٹاف محترم جناب عاصم منیر صاحب سے دست بستہ درخواست کرتا ہوں کہ سیز فائر کروا کے سب کو ون پوائنٹ ایجنڈا پر بٹھائیں پہلے معیشت کا حل نکالیں پھر سیاست کریں۔ حالات بتاتے ہیں وزیر خزانہ قوم کو اندھیرے میں رکھے ہوئے ہیں کہ ہم ڈالر کو 200 روپے سے نیچے لے جائیں گے، ڈیفالٹ کا خطرہ ختم ہو گیا ہے، ہم نے آئی ایم ایف سے معاملہ طے کر لیا ہے وغیر ہ وغیرہ ۔

مگر اسٹیٹ بینک نے وزیر خزانہ کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے تمام بینکوں کو نئی ایل سی کھولنے سے منع کر دیا ہے جس میں سب سے خطرناک الارم پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچر ایسوسی ایشن (PPMA) نے یہ کہہ کر بجا دیا ہے کہ اس کے ممبران کے پاس صرف 15 سے 30 دن کا خام مال رہ گیا ہے اور ڈالر 250 روپے میں بھی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔ کل پیناڈول مارکیٹ میں شارٹ تھی اور آج جان بچانے والے بہت سے کیمیکل جو پاکستان میں نہیں بنتے، ختم ہو رہے ہیں اگر ایل سی نہیں کھولی تو ادویات کی قلت پیدا ہو جائے گی۔ اگر چہ وزیر اعظم نے قیمتیں بڑھانے کے لئے کمیٹی بنانے کی ہدایت دی ہے مگر ایل سی کیلئے بینک خاموش ہے، یہی حال تمام دیگر صنعتوں کا ہے۔ امپورٹرز کا اربوں روپے کا مال پورٹ پر پڑا ہے۔ مگر بینک غیر ملکی بینکوں کو رقمیں نہیں ادا کر رہے ہیں۔ ہمارے ایکسپورٹر ڈار صاحب والے 220 ڈالر کے فارمولے کی وجہ سے اپنا پیسہ پاکستان نہیں لا رہے ہیں بینک ان کے بیرونی بینک کے بل ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔

عمران خان کے جاتے ہی ہر طرف ڈالر کا شور مچا تو ڈالر مارکیٹ سے غائب ہو گیا ۔ عوام خاموش تماشائی بن چکے ہیں گزشتہ 75 سال سے یہی کچھ ہوتا آرہا ہے عوام تمام سیاستدانوں کو دیکھ چکے ہیں لہٰذا عوام کو اب فیصلہ کرنا ہو گا۔ کل ہمارے سابقہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل فرما رہے تھے ہم 75 سال بعد بھی قوم کو صاف پینے کا پانی، بجلی، گیس اور بھوک سے نجات نہیں دلا سکے۔ سری لنکا کے عوام جب سڑکوں پر نکلے تب ان کے حکمران بھاگے، کیا ہمارے حکمران بھی سری لنکا کے عوام کے عمل پر ہی جاگیں گے؟

خلیل احمد نینی تا ل والا

بشکریہ روزنامہ جنگ

Comment
Like
Tip icon image You can also reply to this email to leave a comment.

Unsubscribe to no longer receive posts from Pakistan Insider.
Change your email settings at manage subscriptions.

Trouble clicking? Copy and paste this URL into your browser:
https://pakistaninsiders.wordpress.com/2022/12/12/%d8%aa%d8%a8%d8%a7%db%81-%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b4%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d8%af%d8%a7%da%ba/

Powered by WordPress.com
Download on the App Store Get it on Google Play
at December 12, 2022
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

No comments:

Post a Comment

Newer Post Older Post Home
Subscribe to: Post Comments (Atom)

[New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio

...

  • [New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio
    ...
  • [New post] What to do with a hole in the floor?
    PMu posted: "I post a drawing everyday so make sure you follow so you don't miss out on tomorrow's doodle! I...
  • [New post] Jungle Waterfall
    Markosun posted: " Tumpak Sewu, also known as Coban Sewu, is a tiered waterfall that is located between the Pronojiwo D...

Search This Blog

  • Home

About Me

Natureimpactfactor
View my complete profile

Report Abuse

Labels

  • 【ANDROID STUDIO】Await and Async
  • 【FLUTTER ANDROID STUDIO and IOS】animated opacity
  • 【GAMEMAKER】Parallax
  • 【PYTHON】Mean Estimated Accuracy Logistic Regression
  • 【Visual Studio Visual Csharp】Mutex
  • 【Visual Studio Visual VB net】Map Network Drive Wizard

Blog Archive

  • August 2023 (660)
  • July 2023 (866)
  • June 2023 (796)
  • May 2023 (775)
  • April 2023 (809)
  • March 2023 (905)
  • February 2023 (834)
  • January 2023 (905)
  • December 2022 (865)
  • November 2022 (878)
  • October 2022 (940)
  • September 2022 (786)
  • August 2022 (745)
  • July 2022 (823)
  • June 2022 (903)
  • May 2022 (1064)
  • April 2022 (967)
  • March 2022 (786)
  • February 2022 (638)
  • January 2022 (726)
  • December 2021 (1190)
  • November 2021 (3136)
  • October 2021 (3242)
  • September 2021 (3141)
  • August 2021 (3246)
  • July 2021 (3249)
  • June 2021 (3143)
  • May 2021 (301)
Powered by Blogger.