ہماری موجودہ قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے میں تقریباً 9 ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔ 13 اگست کو پارلیمان کا ایوان زیریں تحلیل ہوجائے گا اور آئین کے تحت 12 اکتوبر تک انتخابات کروائے جانے چاہیئں۔ تاہم اس وقت ایک جمہوری انتقال اقتدار مشکل نظر آتا ہے۔ حکمران اتحاد کے کچھ رہنماؤں کی جانب سے دیے جانے والے بیانات نے مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد پر شبہات پیدا کر دیے ہیں، شاید حکومت میں بیٹھے سیاست دان انتخابات میں جانا نہیں چاہتے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کچھ رہنما 'احتساب' چاہتے ہیں تو کچھ پہلے معیشت کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوران پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کو توڑنے کا منصوبہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کی پہلی ترجیح نظر آتا ہے۔ شاید اس منصوبے کے پورے ہونے تک انتخابات کے انعقاد پر توجہ نہ دی جائے۔ ہمارے اس متزلزل جمہوری عمل کا مستقبل بے یقینی کیفیت سے دوچار ہے جس کی وجہ سے موجودہ حکومت کی مدت میں توسیع کے لیے کسی غیر آئینی قدم کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ بلکہ اس حوالے سے تو طویل مدتی نگران سیٹ اپ کی باتیں گردش میں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک کسی انجان راستے کی جانب جارہا ہے۔
پارٹی کے کئی سینیئر اراکین کے پارٹی چھوڑ جانے کے باوجود عمران خان کی عوامی مقبولیت میں کمی کے کوئی اشارے نظر نہیں آرہے۔ ہاں پارٹی کا ڈھانچہ ضرور ختم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے انتخابی امکانات متاثر ہو سکتے ہیں لیکن وہ 'منصوبہ' بھی ابھی جاری ہے۔ محدود نقل و حرکت اور بیانات نشر کرنے پر پابندی کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ عمران خان ڈٹے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سربراہ حکومتی اتحاد اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے انتخابات میں جانا اس وقت حکومت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پہلے انہیں قابو کرنا ہو گا لیکن ایسا کرنا کمزور ریاست کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ کچھ ایسی باتیں بھی کی جارہی ہیں کہ سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں پر بغاوت کے مقدمے فوجی عدالت میں چلائے جائیں گے۔ اس کی وجہ 9 مئی کو سیکیورٹی تنصیبات پر ہونے والے حملے ہوں گے جن میں پی ٹی آئی کے حامی ملوث تھے۔ ماضی میں بھی ہم دیکھ چکے ہیں کہ منتخب رہنماؤں کو مشکوک مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں لیکن سویلین عدالتوں کی جانب سے ان میں سے ایک سابق وزیر اعظم کو جھوٹے الزام میں پھانسی بھی دی جاچکی ہے۔
ایک سزا انہیں انتخابی سیاست سے دور کر سکتی ہے لیکن اپنی غلطیوں اور جمہوری عمل کو تباہ کرنے کی کوششوں کے باوجود کسی مقبول لیڈر کو سیاسی منظرنامے سے دور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تاریخ کا ایک سبق ہے جسے ہمارے سیاسی رہنما کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ بات صرف ملک کے اندر ان کی مقبولیت کی نہیں ہے۔ مغرب میں رہنے والی بااثر پاکستانی برادری میں ان کی مقبولیت بہت ہے۔ یہ وہ عنصر ہے جس کی وجہ سے ملک میں بڑی قوتوں کے خلاف کھڑے ہونے کے باوجود بھی ان کی پوزیشن مستحکم ہوتی ہے۔ ان پر مقدمہ چلانا ایک ایسے ملک کے سیاسی ماحول کو مزید خراب کر سکتا ہے جس کے معاشی اور سیکیورٹی حالات پہلے ہی دگرگوں ہے۔ حکمران اتحاد اور مقتدر حلقوں کے لیے موجودہ سیاسی کشمکش کے منفی اثرات سے بچنا مشکل ہو گا۔ اس سیاسی کشمکش نے ملک کو تقسیم کر دیا ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ صورت حال کی سنگینی کا احساس ہی نہیں کیا جارہا اور سیاست سے باہر کی قوتیں واضح طور پر سیاسی انجینئرنگ کر رہی ہیں جبکہ سیاسی جماعتیں اپنے مخالف کو کمزور ہوتا دیکھ کر خوش ہورہی ہیں۔
ان میں سے کچھ تو انتخابات میں اپنے امکانات بڑھانے کے لیے پی ٹی آئی چھوڑنے والے الیکٹیبلز کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی سیاسی جماعتوں کی اجاراہ داری کو کم کرنے کے لیے کنگز پارٹی بنانے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اب جبکہ سیاسی جماعتیں خود کو انتخابات کے لیے تیار کر رہی ہیں تو شطرنج کا وہی پرانا کھیل دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی بہ ظاہر ٹوٹ پھوٹ سے سیاسی میدان بالکل تبدیل ہو گیا ہے۔ اس وقت اقتدار کے حصول کی کشمکش کا اصل مرکز پنجاب ہے۔ ایک جانب جہاں مسلم لیگ (ن) اپنے گڑھ پر دوبارہ کنٹرول چاہتی ہے تو دوسری جانب پیپلز پارٹی الیکٹیبلز کو ساتھ ملا کر جنوبی پنجاب میں اپنے امکانات بہتر کرنا چاہتی ہے۔ یہ الیکٹیبلز وہ ہیں جنہوں نے حالات تبدیل ہوتے دیکھ کر سیاسی موقع پرستی کے تحت پی ٹی آئی کو خیرباد کہا۔ زیادہ تر خاندانی سیاست دانوں کا اپنا ووٹ بینک ہوتا ہے لیکن وہ انتخابات میں اپنی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھتے ہیں۔ انتخابات کے نتائج میں پی ٹی آئی کو حاصل انتخابی حمایت کے اثرات کو دیکھنا بھی دلچسپ ہو گا۔ یقینی طور پر سیٹیں جیتنے کے لیے پی ٹی آئی کو ایک اضافی کوشش کی ضرورت ہو گی۔
لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا واقعی انتخابات مقررہ مدت کے اندر ہوں گے یا ہم ایک طویل مدت کے لیے نگران سیٹ اپ دیکھنے جا رہے ہیں۔ یہ سب اس بات پر منحصر ہوگا کہ اگلے چند ہفتوں میں صورت حال کس طرف جاتی ہے۔ عمران خان کی نااہلی قریب نظر آتی ہے لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اس کے سیاسی نتائج سے کیسے نمٹیں گے۔ شاید اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ نگران سیٹ اپ کی مدت میں معاشی بدحالی کو کیسے روکا جائے گا۔ وزیر خزانہ کی امید افزا باتوں کے باوجود انتخابات کی تلوار ہمارے سروں پر لٹک رہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام نے معاشی صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنا ہو گا۔ لیکن بدقسمتی مذاکرات کے تمام دروازے اب بند نظر آتے ہیں۔ بلاشبہ ان حالات کی ایک بڑی وجہ پی ٹی آئی کے سربراہ کا رویہ رہا ہے لیکن اب حکومت نے بھی سیاسی مذاکرات پر اپنی پوزیشن سخت کر لی ہے۔ ان حالات میں شفاف اور آزاد الیکشن کروانا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ لیکن انتخابات میں تاخیر مسئلے کا حل نہیں ہے۔
موجودہ حکومت کی مدت میں توسیع یا کوئی طویل مدتی غیر نمائندہ نگران سیٹ اپ لانے سے آئینی بحران کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بلاشبہ سخت ترین حالات میں بھی سیاسی بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے واقعات سے پہلے ہی جمہوریت کا نقصان ہوا ہے اور اس کا تسلسل ملک کی ترقی اور اتحاد کے لیے تباہ کن ہو گا۔ ایک غیر نمائندہ نظام کبھی بھی طویل مدتی سیاسی اور معاشی استحکام نہیں لا سکتا۔ اس سب کا حل عوامی حمایت سے آنے والی حکومت ہی ہے۔
زاہد حسین
یہ مضمون 7 جون 2023ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔
بشکریہ ڈان نیوز
No comments:
Post a Comment