Nature Impact Factor

Thursday, June 8, 2023

[New post] یومِ مئی تین ہزار سال پہلے

Site logo image KHAWAJA UMER FAROOQ posted: "یہ قصہ ہے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے ساڑھے گیارہ سو برس پہلے کا۔ یعنی اب سے لگ بھگ اکتیس صدیاں پہلے۔ مصر کا ریاستی نظامِ شمسی فراعنہ رعمیسس کے گرد گھوم رہا ہے۔ اسے خدا کا درجہ حاصل ہے اور خدا بے بس نہیں ہو سکتا۔ یہ رعمیسس کی ذمے داری ہے کہ وہ" Pakistan Insider

یومِ مئی تین ہزار سال پہلے

KHAWAJA UMER FAROOQ

Jun 8

یہ قصہ ہے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے ساڑھے گیارہ سو برس پہلے کا۔ یعنی اب سے لگ بھگ اکتیس صدیاں پہلے۔ مصر کا ریاستی نظامِ شمسی فراعنہ رعمیسس کے گرد گھوم رہا ہے۔ اسے خدا کا درجہ حاصل ہے اور خدا بے بس نہیں ہو سکتا۔ یہ رعمیسس کی ذمے داری ہے کہ وہ سماج میں طبقاتی توازن برقرار رکھے، داخلی و خارجی بحرانوں کو اپنی الوہی فراست سے ٹالے، حکام پر آہنی گرفت رکھے۔ شاہی قوانین کی پاسداری کی راہ میں بدعنوانی، تساہل یا ناانصافی ہرگز حائل نہ ہو تاکہ رعایا کا خدا صفت بادشاہ پر یقین متزلزل نہ ہو۔ سب بظاہر ٹھیک چل رہا ہے کہ ایک دن نوکر شاہی کو حکم ملا کہ تین برس بعد جب رعمیسس سوم کا اقتدار تیسری دہائی میں داخل ہو تو اس تاریخی موقع کو شایانِ شان منانے میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ اس یادگار سال کی نشانی کے طور پر ایک عظیم الشان معبد کی تیاری کا حکم ملا اور ہزاروں کاریگر اور مزدور اس کی بروقت تکمیل کے کام میں جٹ گئے۔ پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے۔ اخراجات سرکاری آمدنی سے زیادہ ہوتے چلے گئے اور خسارے کا خمیازہ شاہی جشن کی تیاریوں کی ترجیح پر محنت کشوں کو بھگتنا پڑا۔ ماہانہ محنتانہ اور راشن کی تقسیم میں پہلے مہینے چند دنوں کی تاخیر ہوئی، پھر تاخیر ہفتوں میں تبدیل ہوئی اور تیسرے مہینے میں حکام نے مزدوروں کو بتایا کہ گزشتہ مہینے کا محنتانہ اگلے مہینے سے پہلے نہیں مل سکتا۔

جب بے چینی بڑھنے لگی تو حکام نے بطور پیش بندی کارکنوں میں غلے کی رسد کسی نہ کسی طور تقسیم کر دی، مگر یہ عارضی حل تھا۔ اصل معاملہ یوں تھا کہ تیس سالہ جشن کے لیے مختص بجٹ میں جو رقم کاریگروں اور محنت کشوں کے معاوضے کی مد میں مختص کی گئی تھی۔ اس کا ایک حصہ جشن کے منتظم افسروں نے ملی بھگت سے غتربود کر لیا۔ اب اگر یہ خبر محل تک پہنچ جاتی تو گردنیں اڑ سکتی تھیں، لہٰذا نچلی بیورو کریسی کاریگروں اور مزدوروں کی بے چینی قابو میں رکھنے کے لیے بقول شخصے لولی پاپ دیتی رہی۔ خوراک تو کسی نہ کسی طور بٹتی رہی مگر معاوضہ کب ملے گا اور جو بقایا جات جمع ہوتے جا رہے ہیں ان کا کیا ہو گا۔ اس کا حتمی جواب کسی افسر کے پاس نہیں تھا۔ تنگ آمد بجنگ آمد ایک دن ( چودہ نومبر گیارہ سو انسٹھ قبلِ مسیح ) دیر المدینہ کے علاقے میں معبد تعمیر کرنے والے کاریگروں اور کارکنوں نے اوزار زمین پر رکھ دیے اور احتجاجی جلوس دارالحکومت تھیبس کی جانب '' ہم بھوکے ہیں ہم برباد ہیں '' کے نعرے لگاتا چل پڑا اور آنجہانی فراعنہ ٹیوٹمس سوم کے مقبرے کے باہر دھرنا دے دیا۔

حکام کے ہاتھ پاؤں پھول گئے کیونکہ ایسا پہلے کبھی نہ ہوا تھا کہ بادشاہ کے کسی منصوبے سے رعیت کا کوئی طبقہ اس طرح حکم عدولی کرے۔ پہلی بار کسی طبقے نے طے شدہ سماجی دائرہ اس دیدہ دلیری سے توڑا۔ حکام کو ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ اس ناگہانی سے کیسے نمٹا جائے۔ بدحواسی میں حکام نے فوری طور پر مٹھائیاں منگوا کے بانٹنا شروع کر دیں تاکہ بھوکے مزدوروں کی کچھ نہ کچھ تشفی ہو سکے اور پھر وہ بات سننے پر آمادہ ہو سکیں۔ اگلے دن کاریگروں اور مزدوروں کا یہ جتھہ شاہی گودام کے دروازے پر جمع ہو گیا۔ کچھ لوگ دیوار پھاند کے اندر داخل ہو گئے اور '' تنخواہ ابھی اور اسی وقت '' کا مطالبہ کرتے رہے۔ حکام نے گھبرا کے کوتوال مونٹیمس کو مدد کے لیے طلب کیا۔ مونٹیمس کمک لے کے پہنچا اور مزدوروں کو واپس کام پر جانے کا حکم دیا۔ کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ مونٹیمس نے معبد کے پروہت اور متعلقہ افسروں سے کہا کہ ایسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کوئی ریاستی ضابطہ، مثال یا قانون نہیں ہے۔ لہٰذا آپ ہی نپٹیں۔ مزدور رہنماؤں اور مندر کی انتظامیہ کے درمیان تفصیلی مذاکرات کے نتیجے میں رواں مہینے کی تنخواہ معہ واجبات ایک ہفتے کے اندر ادائیگی کا سمجھوتہ ہو گیا اور محنت کش کام پر لوٹ گئے۔

اگلے ماہ پھر بحران سر پر آگیا۔ اس بار مزدوروں نے وادیِ شاہان ''ویلی آف کنگز '' جانے والے راستوں پر دھرنا دے دیا۔ تاکہ شاہی مقبروں تک پروہت یا مرنے والوں کے ورثا اظہارِ عقیدت کے لیے نہ پہنچ پائیں اور انھیں حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے۔ جب حکام نے طاقت استعمال کرنے کی دھمکی دی تو چند مزدوروں نے جوابی دھمکی دی کہ وہ مقبروں کی توڑ پھوڑ سے بھی دریخ نہیں کریں گے۔چنانچہ سرکاری عمال کو ایک بار پھر پیچھے ہٹنا پڑا۔ یوں یہ آنکھ مچولی اگلے تین برس تک چلتی رہی۔ حکام کو جلدی تھی کہ جشن تیس سالہ کے منصوبوں میں کوئی ایسا رخنہ نہ پڑے جس کی سن گن بادشاہ کو ہو جائے۔ کارکنوں کو پہلی بار احساس ہوا کہ ہڑتال کی اجتماعی طاقت سے وہ اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں اور مطالبات پورا کرنے میں ناکامی سے رعایا میں یہ پیغام جائے گا کہ خدائی طاقت رکھنے والا بادشاہ ہر شے پر قادر نہیں۔ اس سے تو اپنی نوکرشاہی نہیں سنبھل رہی۔ نوکر شاہی کو یہ خوف تھا کہ اگر بادشاہ کی طاقت و ناطاقتی پر رعایا کی طرف سے کوئی سوال اٹھتا ہے تو پھر بادشاہ سب سے پہلے ہماری ہی کھال کھنچوائے گا۔

خدا خدا کر کے شاہی جوبلی کے انتظامات کسی نہ کسی طور مکمل ہوئے اور گیارہ سو چھپن قبلِ مسیح میں کئی ماہ پر پھیلی تقریبات شاندار انداز میں منائی گئیں۔ لوگ وقتی طور پر روزمرہ کے مسائل بھول بھال کے ناچ گانے اور ناؤ نوش میں لگ گئے۔ اگرچہ جشن کے بعد کے مہینوں میں تنخواہوں کا بحران کسی نہ کسی طور حل کر لیا گیا مگر سرکار اور مزدوروں کے تعلقات میں پہلے والی بے ساختہ گرم جوشی جاتی رہی اور بھروسے کی کمی نے نفسیات میں گھر کر لیا۔ اب تک یہ تصور تھا کہ رعایا کی دیکھ بھال اور تکالیف رفع کرنے کی ذمے داری کلی طور پر بادشاہ کی ہے۔ مگر اس تجربے نے یہ آشکار کیا کہ رعایا کو یہ شاہی اختیار خود بھی مجبوراً استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔ جن کاریگروں اور مزدوروں نے ہڑتال میں حصہ لیا انھیں اس دور میں سب سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے والا طبقہ سمجھا جاتا تھا۔ اگر ریاست ان مراعات یافتہ محنت کشوں کی دیکھ بھال نہیں کر پائی تو پھر دیگر مزدور طبقات کا خیال کیسے رکھ پائے گی۔ چنانچہ وہ تحریک جو تنخواہوں کے بحران سے شروع ہوئی رفتہ رفتہ اس نے حکمرانی کے گرتے ہوئے معیار اور کرپشن کے بارے میں سوالات اٹھانے شروع کر دیے۔ رعمیسس سوم کی حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں ان ہڑتالوں کا تذکرہ نہیں ملتا۔ اس کا سراغ دیر المدینہ میں دریافت ہونے والے پاپائرس پر لکھی ایک تحریر سے ملا۔ امکان ہے کہ یہ تحریر امیناخت نامی کاریگر کی ہے جو خود بھی مزدور تحریک میں آگے آگے تھا۔

وسعت اللہ خان  

بشکریہ ایکسپریس نیوز

Comment
Like
Tip icon image You can also reply to this email to leave a comment.

Unsubscribe to no longer receive posts from Pakistan Insider.
Change your email settings at manage subscriptions.

Trouble clicking? Copy and paste this URL into your browser:
https://pakistaninsiders.wordpress.com/2023/06/08/%db%8c%d9%88%d9%85%d9%90-%d9%85%d8%a6%db%8c-%d8%aa%db%8c%d9%86-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%be%db%81%d9%84%db%92/

WordPress.com and Jetpack Logos

Get the Jetpack app to use Reader anywhere, anytime

Follow your favorite sites, save posts to read later, and get real-time notifications for likes and comments.

Download Jetpack on Google Play Download Jetpack from the App Store
WordPress.com on Twitter WordPress.com on Facebook WordPress.com on Instagram WordPress.com on YouTube
WordPress.com Logo and Wordmark title=

Learn how to build your website with our video tutorials on YouTube.


Automattic, Inc. - 60 29th St. #343, San Francisco, CA 94110  

at June 08, 2023
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

No comments:

Post a Comment

Newer Post Older Post Home
Subscribe to: Post Comments (Atom)

[New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio

...

  • [New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio
    ...
  • [New post] What to do with a hole in the floor?
    PMu posted: "I post a drawing everyday so make sure you follow so you don't miss out on tomorrow's doodle! I...
  • [New post] Jungle Waterfall
    Markosun posted: " Tumpak Sewu, also known as Coban Sewu, is a tiered waterfall that is located between the Pronojiwo D...

Search This Blog

  • Home

About Me

Natureimpactfactor
View my complete profile

Report Abuse

Labels

  • 【ANDROID STUDIO】Await and Async
  • 【FLUTTER ANDROID STUDIO and IOS】animated opacity
  • 【GAMEMAKER】Parallax
  • 【PYTHON】Mean Estimated Accuracy Logistic Regression
  • 【Visual Studio Visual Csharp】Mutex
  • 【Visual Studio Visual VB net】Map Network Drive Wizard

Blog Archive

  • August 2023 (660)
  • July 2023 (866)
  • June 2023 (796)
  • May 2023 (775)
  • April 2023 (809)
  • March 2023 (905)
  • February 2023 (834)
  • January 2023 (905)
  • December 2022 (865)
  • November 2022 (878)
  • October 2022 (940)
  • September 2022 (786)
  • August 2022 (745)
  • July 2022 (823)
  • June 2022 (903)
  • May 2022 (1064)
  • April 2022 (967)
  • March 2022 (786)
  • February 2022 (638)
  • January 2022 (726)
  • December 2021 (1190)
  • November 2021 (3136)
  • October 2021 (3242)
  • September 2021 (3141)
  • August 2021 (3246)
  • July 2021 (3249)
  • June 2021 (3143)
  • May 2021 (301)
Powered by Blogger.