ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے جتنی محبت، چاہت، عشق ، لگائو اور الفت پاکستان کے عوام کو ہے شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک کے عوام کو ہو بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا اگر ترکیہ میں ان سے محبت کرنے والوں کی تعداد باون فیصد ہے تو پاکستان میں ان سے محبت کرنے والوں کی تعداد سو فیصد نہیں تو اس سے کم بھی نہیں۔ یہ میں اتنے وثوق سے اس لئے کہہ رہا ہوں کہ پاکستانی باشندوں نے اس بار ترکیہ کے انتخابات کے موقع پر جس جوش وخروش اور دلچسپی کا اظہار کیا ہے اس سے پہلےمیں نے کبھی نہیں دیکھا۔ پاکستان کے عوام اپنے سیاسی رہنماؤں سے کہیں زیادہ صدر ایردوان سےمحبت کرتے ہیں۔ صدر ایردوان سے جب کبھی ملاقات کا موقع ملا میں نے ہمیشہ پاکستان کے عوام کی ان سے گہری محبت کا ذکر کیا۔ وہ کیا حقائق ہیں جن کی وجہ سے صدر ایردوان اکیس سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود پہلے دن کی طرح اپنی مقبولیت قائم رکھے ہوئے ہیں؟ یہ جدید اور جمہوری دنیا کا بالکل انوکھا واقعہ ہے۔ ایردوان نےابتدا میں چھوٹی چھوٹی کامیابیوں سے اپنی فتوحات کا آغاز کیا اور 27 مارچ 1994ء کو استنبول کے مئیر کا انتخاب جیتنے کے بعد انہوں نے واپس مڑکر نہ دیکھا اور عالمی تاریخ میں 17 بار مسلسل کامیابیاں حاصل کر کے اور اکیس سال مسلسل اپنی مقبولیت برقرار رکھتے ہوئے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کرا لیا۔
اگرچہ دنیا میں طویل عرصہ اقتدار جاری رکھنے والے کئی حکمراں گزرے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی لیڈر ایسا نہیں ہے جس نے عوام میں اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہو۔ (ڈکٹیٹرز کے نام نہاد انتخابات اس میں شامل کر نے سےگریز کیا جانا چاہئے)۔ اب آتے ہیں اصلی موضوع کی جانب۔ ایردوان نے ایسا کیا کیا ہے کہ ترک عوام اب بھی ان کے دیوانے ہیں؟ ایردوان نے جب 2002ء میں اقتدار سنبھالا تو ان کو شدید مشکلات کا سامنا تھا، ملک میں جمہوریت ہونے کے باوجود ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کروائے جانے والے کئی اہم فیصلوں کو فوج کے شدید دبائو اور اس وقت کے نام نہاد سیکولر صدر احمد نجدت سیزر کی جانب سے ویٹو کر دیا جاتا تھا حتیٰ کہ ایردوان کو اپنی پہلی کابینہ کی منظوری صدر احمد نجدت سیزر سے دس بار ویٹو کئے جانے کے بعد ہی حاصل ہوئی تھی، صدر سیزر فوج کے شدید دبائو کے نتیجے میں کسی بھی وزیر کا نام اس کے اہلِ خانہ کے ہیڈ اسکارف پہننے یا مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ویٹو کر دیتے تھے، حتیٰ کہ وزیراعظم ایردوان کی اہلیہ تک کو (ہیڈ اسکارف پہننے کی وجہ سے ) کسی بھی سرکاری تقریب میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔
وزیراعظم ہونے کے باوجود کسی بھی شعبے کے سربراہ کو بدلنے تک تک کی اجازت نہ ہونے جیسی مشکلات نے انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کیا اور انہوں نے بڑے صبر وتحمل سے اپنی حکومت جاری رکھی۔ اس دور ہاتھ بندھے ہونے کے باوجودایردوان نے ملک کو اقتصادی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن کیا، ان کی اسی کامیابی نے ان کیلئےآئندہ کے انتخابات میں قومی اسمبلی میں پہلے سے بھی زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی راہ ہموار کی۔ ترکیہ میں ایردوان کا وزیراعظم کی حیثیت سے دوسرا دور ان کی زندگی کا سنہری دور قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس دور میں وزیراعظم ایردوان کو صدر احمد نجدت سیزر کے ویٹو سے بھی نجات حاصل ہو گئی اور ان ہی کی پارٹی اور ان کے دستِ راست عبداللہ گل صدر منتخب ہو گئے، یوں صدر اور وزیراعظم کی ہم آہنگی کی وجہ سے ملک نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی اور اس دوران ترک لیرے سے چھ صفر ہٹا کر ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرا کی قدر 3 فیصد مقرر کر دی گئی اور طویل عرصے تک ترک لیر امستحکم رہا اور ملک ترقی کی راہ پر چلتا رہا۔
28 اگست 2014 کو صدر عبداللہ گل کے عہدہ صدارت کی مدت پوری ہونے پر ایردوان کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا گیا اور انہوں نے اپنے دستِ راست احمد دائود اولو کو وزیراعظم منتخب کروایا لیکن ان سے اختلافات کی وجہ سے احمد دائود اولو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور ہو گئے اور بن علی یلدرم کو نیا وزیراعظم منتخب کر لیا گیا۔ اسی دوران 15 جولائی 2016ء کو فوج نے (فیتو دہشت گرد تنظیم کے اشتراک سے) ایردوان حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کی۔ تاہم عوام نے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا، اس ناکام فوجی بغاوت نے بعد میں صدر ایردوان کی زندگی اور سوچ کو تبدیل کر کے رکھ دیا اور انہوں نے ملک میں صدارتی نظامِ حکومت متعارف کروا کے فوج کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا، اس کے بعد کبھی فوج کی جانب سے صدر ایردوان کیلئے کسی قسم کی مشکلات کھڑی نہیں کی گئیں بلکہ فوج کی جانب سے دی جانے والی ڈکٹیشن کا سلسلہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا۔ اب صدر ایردوان موجودہ دور میں نہ صرف فوج پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ترک عوام کے دل بھی فتح کر لئے ہیں۔ انہوں نے ملک کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچا دیا، ترکیہ اپنے دفاع کے معاملے میں تقریبا ًخود کفیل ہو چکا ہے بلکہ اس کے ڈرونز نے سپر طاقتوں تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، ترکوں نے اپنے ماضی کی عظمت کو بحال ہوتے ہوئے دیکھا ہے اور اسی جذبے کے تحت انہوں نے صدر ایردوان کو کامیابی سے ہمکنار کروایا ہے۔
ڈاکٹر فر قان حمید
بشکریہ روزنامہ جنگ
No comments:
Post a Comment