قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا، لیکن سوال یہ ہے کہ حزب اختلاف اور قائد حزب اختلاف کہاں تھے؟ روایت تو یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں ایک عدد قائد حزب اختلاف تشریف فرما ہوتے ہیں، جنہیں تفنن طبع میں ساتھی پارلیمنٹیرین وفاقی وزیر برائے حزب اختلاف کہتے ہیں۔ کیا ہم جان سکتے ہیں اس بجٹ پر ان کا موقف کیا ہے؟ راجہ ریاض صاحب کے پاس اس بجٹ پر تنقید کرنے کے لیے یا اصلاح احوال کے لیے کچھ تجاویز ہیں؟ یا وہ بھی وزیر خزانہ کو دیکھ کر دل ہی دل میں گنگنا لیتے ہیں: 'ڈار تیرے جانثار بے شمار بے شمار۔' نیز یہ کہ ڈار صاحب جواب میں التفات فرماتے ہیں یا وہ اردو کے مسکین اور عزت نفس سے محروم شاعروں کے سنگدل محبوب کی طرح ہیں، جو اپنے چاہنے والوں کو 'پشانتے' ہی نہیں۔پارلیمانی جمہوریت صرف حزب اقتدار کا نام نہیں، حزب اختلاف کی بھی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے جو بجٹ جیسے مواقع پر دوچند ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع پر اگر حزب اختلاف نام کی کوئی چیز ہی موجود نہ ہو تو یہ نیک شگون نہیں ہوتا۔ بجٹ صرف حکومت کی جانب سے پیش کردہ الفاظ کا گورکھ دھندا نہیں ہوتا، اس میں حزب اختلاف کی مشاورت بھی شامل ہوتی ہے، اس مشاورت کو حکومت سنجیدگی سے نہ لے تو پھر وہ تنقید کر کے عوام کو بتاتی ہے کہ بجٹ میں کیا خامی ہے اور اسے کیسے دور کیا جا سکتا ہے۔
میں کسی اَن دیکھی دنیا کی بات نہیں کر رہا۔ خود سندھ اسمبلی میں حکومت کی حالیہ بجٹ کے حوالے سے یہ قرارداد منظور ہو چکی ہے کہ حزب اختلاف کی سفارشات کا جائزہ لے کر بجٹ بنایا جائے۔ سوال یہ ہے کہ وفاقی بجٹ میں حزب اختلاف کہاں ہے؟ اس کی مشاورت کیا ہوئی؟ اس کا بنایا ہوا متبادل یعنی شیڈو بجٹ کدھر ہے؟ یہ سوالات اصل میں پاکستان تحریک انصاف کے فکری بحران کا اعلانِ عام ہیں۔ کیسی مقبولیت تھی، کاش تھوڑی سی بصیرت بھی منی بس کے روٹ کی طرح ہمراہ ہوتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ تحریک عدم اعتماد آتی رہتی ہے، پارلیمانی سیاست کا یہ لازمی جزو ہے۔ عمران پارلیمان میں رہتے تو دھوپ چھاؤں کا آنا جانا لگا رہتا، لیکن یہ سیاسی جماعت تھی ہی کب۔ یہ تو ایک 'کلٹ' تھا، جہاں ریڈ لائن ہی نہیں، عقل کا گھنٹہ گھر بھی فرد واحد تھا۔ اس جماعت میں مشاورت کا عالم وہی تھا جو انور مسعود اپنی نظم میں بیان کر چکے۔ کپتان خان انور مسعود کے چوہدری کی طرح پوچھتے تھے: 'اج کیہہ پکائیے؟' جواب میں ڈھیر سارے رحمے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور پھر پکار اٹھتے: 'بجھ لیا کپتان جی چھولیاں دی دال اے۔' چھولیاں دی دال یوں کھائی گئی کہ اب بد ہضمی کا شکار انقلابی نونہال پریس کانفرنسوں کے لیے قطاروں میں لگے ہیں۔
یکے بعد دیگرے غلط فیصلے کیے گئے، جیسے کہیں طے کر لیا کہ عقل و شعور کو تو میں نے چھوڑنا نہیں۔ عقل اور سنجیدگی کو دلیپ دوشی سمجھ کر باؤنسر مارے گئے۔ اب ساری پارٹی کا 'مسل پُل' ہوا پڑا ہے۔ طنطنے سے استعفے دے کر ایوان کے جو دروازے خود پر بند کیے گئے وہ منتوں ترلوں سے بھی نہیں کھل سکے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں حکومت تھی اپنے ہاتھوں ختم کر دی۔ باقی پارٹی بچی تھی، جو غیر سیاسی اور غیر دانشمندانہ افتاد طبع کی نذر ہو گئی۔ خیر خواہانہ تنقید کرنے والوں کو جن کے اشاروں پر گالیوں سے نوازا جاتا تھا وہ خود اب ترین فارم کے آم کھا رہے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ اس سارے عمل میں جمہوریت کو کیا ملا؟ سونامی نے آتے وقت بھی جمہوریت اور اہل سیاست کے لیے گنجائش کو محدود سے محدود تر کیا اور اپنی بے بصیرتی سے جاتے ہوئے بھی یہی کام کیا۔ اب ایسا خلا ہے کہ بجٹ دستاویز ایوان میں رکھے ہیں اور حزب اختلاف کا کہیں وجود ہی نہیں کہ اس ڈاکیومنٹ پر کوئی با مقصد گفتگو ہو سکے اور اس میں اصلاح احوال کی کوئی تجویز سامنے آ سکے۔ اور نہیں تو کم از کم اتنا تو ہوتا کہ بجٹ کے دوران تھوڑی رونق ہی لگ جاتی۔
پارلیمان میں کوئی نعرہ بازی ہوتی، کوئی شور مچایا جاتا، پلے کارڈ لے کر وزیر خزانہ کا گھیراؤ ہوتا، ان کی تقریر کے دوران ڈیسک بجائے جاتے۔ کچھ تو ہوتا۔ ایسا ہومیوپیتھک بجٹ بھی بھلا کوئی بجٹ ہوتا ہے۔ پارلیمان سے باہر نکلا تو سامنے ٹریل فائیو تھی۔ ایک دوست ملے۔ ہم نے اکٹھے چائے پی۔ پھر میں نے یہی دکھڑا ان کے سامنے رکھا کہ کہ بجٹ تو آ گیا ہے حزب اختلاف نظر نہیں آ رہی۔ وہ کہاں ہے؟
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا: 'کیا تمہیں حزب اقتدار کہیں نظر آ رہی ہے؟ کیا تم بتا سکتے ہو وہ کہاں ہے؟' میں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا۔ سامنے مارگلہ کا جنگل تھا۔ جنگل میں ہُو کا عالم تھا۔
آصف محمود
بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو
No comments:
Post a Comment