Nature Impact Factor

Thursday, June 15, 2023

[New post] ہمیں اپنی معاشی حقیقت تسلیم کرنے کی ضرورت ہے

Site logo image KHAWAJA UMER FAROOQ posted: " اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملک ڈیفالٹ نہیں ہو رہا، وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار نے واضح کیا ہے کہ حکومت بیرونی قرضوں کے معاملے پر مذاکرات کررہی ہے۔ اس سے ہمیں ان کے اس دلیرانہ دعوے پر حیرت ہوتی ہے کہ ملک قرضوں کی ادائیگیاں بروقت کرے گا۔ توقعات کے مطابق اسحٰق ڈا" Pakistan Insider

ہمیں اپنی معاشی حقیقت تسلیم کرنے کی ضرورت ہے

KHAWAJA UMER FAROOQ

Jun 15

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملک ڈیفالٹ نہیں ہو رہا، وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار نے واضح کیا ہے کہ حکومت بیرونی قرضوں کے معاملے پر مذاکرات کررہی ہے۔ اس سے ہمیں ان کے اس دلیرانہ دعوے پر حیرت ہوتی ہے کہ ملک قرضوں کی ادائیگیاں بروقت کرے گا۔ توقعات کے مطابق اسحٰق ڈار کی بجٹ تقریر کھوکھلے دعووں سے بھرپور تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اس وقت جب ملک کو تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا ہے، ایسے میں انہوں نے عوام دوست یا مقبول بجٹ پیش کیا۔ تاہم بجٹ میں آنے والے معاشی بحران کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا۔ بجٹ پیش کرنے کے بعد ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار نے آئی ایم ایف کے سخت موقف کو جغرافیائی سیاست سے منسوب کیا۔ وہ ابھی تک یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ان کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے آئی ایم ایف ان پر اعتماد کرنے سے ہچکچا رہا ہے۔ زیادہ تر اقتصادی ماہرین اتفاق کرتے ہیں کہ اس عوامی بجٹ میں سخت اصلاحاتی اقدامات نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کے قرضے واپس لوٹانا مزید مشکل ہو جائے گا۔ یہ بجٹ ایک ایسی حکومت نے پیش کیا ہے جس کی آئینی مدت صرف 2 ماہ رہ گئی ہے لیکن اسحٰق ڈار اب بھی خوابوں کی دنیا میں جی رہے ہیں۔ ووڈو اکنامکس پر ان کا یقین غیرمتزلزل ہے، اور ان کے اسی یقین نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

معروف ماہرِ معیشت اور پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر عاطف میاں نے پاکستان کی صورتحال کا سری لنکا اور گھانا سے موازنہ کیا ہے۔ یہ دونوں ایسے ممالک ہیں جو ڈیفالٹ ہو چکے ہیں۔ اس پر اسحٰق ڈار نے کافی سخت ردعمل دیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرض لوٹانے کی تاریخ کو ری شیڈول کرنے سے آخر کیا حاصل ہو گا۔ ہم ابھی باضابطہ طور پر ڈیفالٹ نہیں ہوئے لیکن ہم اس کے بہت قریب ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہم آنے والی مشکلات سے نبردآزاما ہونے کے لیے تیار ہیں۔ جب کوئی حقیقت تسلیم کرنے سے انکاری ہوتا ہے تب زیادہ دشوار صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ ہمارے پاس ایسے بہت سے ممالک کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اس سے بھی بدتر مالیاتی حالات کا سامنا کیا لیکن پہلے اپنی مالی حالات کی حقیقت کو تسلیم کر کے اور پھر اپنی گرتی ہوئی معیشت کے حوالے سے سخت اصلاحاتی اقدامات کر کے، وہ اپنی مشکلات کو موقع میں بدلنے میں کامیاب ہوئے۔ مثال کے طور پر بھارت نے 1991ء میں اسی طرح کی صورت حال کا سامنا کیا تھا جب ملک میں زرِمبادلہ کے ذخائر ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز سے بھی کم رہ گئے تھے اور بیرونی ادائیگیوں کے وعدوں کی وجہ سے ڈیفالٹ ہونے سے صرف چند ہفتوں کی دوری پر تھا۔

آئی ایم ایف نے اپنا قرض پروگرام معطل کر دیا اور عالمی بینک نے بھی تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈیفالٹ ہونے سے بچنے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات لیے جیسے اپنے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ بینک آف انگلیند اور یونین بینک آف سویٹزرلینڈ کو بطور ضمانت دیا ہو گا تاکہ قرضے کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے زرِمبادلہ حاصل کیا جاسکے۔ 1991ء میں بھارتی وزیرِ خزانہ من موہن سنگھ کی جانب سے کی جانے والی بجٹ تقریر یادگار ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 'ہم نے جس طویل اور دشوار سفر کا آغاز کیا ہے اس میں آگے والی مشکلات کو میں کم نہیں کر سکتا۔ لیکن جیسا وکٹر ہوگو نے ایک بار کہا تھا 'زمین پر موجود کوئی بھی طاقت اس خیال کو نہیں روک سکتی جس کا وقت آچکا ہوتا ہے'۔ ایک جانب وہ آنے والے چیلنجز سے خبردار کر رہے تھے جبکہ دوسری جانب وہ پُراعتماد تھے کہ سخت لیکن ضروری اصلاحات کر کے وہ بھارتی معیشت کی صورتحال کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد بھارت نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اس وقت کی بھارتی حکومت کی جانب سے لیے جانے والے اصلاحاتی اقدامات کی وجہ سے بھارت دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن کر ابھرا۔ حکومتیں تبدیل ہونے کے باوجود پالیسیوں پر عمل درآمد کو جاری رکھا گیا اور اسی نے بھارت کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ہم بھی حالیہ بحران کو ایک موقع میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ بدقسمتی سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے اور معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے جن سخت اصلاحاتی اقدامات کی ضرورت ہے وہ اقدامات لینے کے حوالے سے نہ ہی حکومت پر عزم ہے اور نہ اس میں ایسے اقدامات لینے کی صلاحیت موجود ہے۔ بھارت نے ملک کو بحران سے باہر نکالنے کے لیے ماہرِ معیشت کی خدمات حاصل کیں جبکہ ہمارے ملک میں معیشت کا پہیہ ایک اکاؤنٹنٹ کے ہاتھ میں ہے جن کی واحد سند یہ ہے کہ ان کا تعلق ایک طاقتور حکمران جماعت سے ہے۔ ملک کو بگڑتی معیشت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی افراطِ زر کے ذریعے جمود کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ بڑھتی ہوئی بےروزگاری کی وجہ سے سنگین معاشی اور سماجی مسائل نے جنم لیا ہے۔ سیاسی وجوہات کی بنا ہر سخت فیصلے لینے سے گریز کیا جارہا ہے، جس سے ملک کا مستقبل داؤ پر لگ رہا ہے۔ اسحٰق ڈار کا یہ دعویٰ کہ ملک ڈیفالٹ نہیں ہورہا، اس کھیل کی جانب اشارہ کرتا ہے جو معاشی انتظام کے نام پر کھیلا جارہا ہے۔

اسحٰق ڈار شاید معیشت کی موجودہ صورت حال کے پوری طرح ذمہ دار نہ ہوں، لیکن بحران کو حل کرنے میں ان کی نااہلی نے معاشی بحران کو مزید سنگین بنانے میں حصہ ضرور ڈالا ہے۔ عاطف میاں نے خبردار کیا ہے کہ 'پاکستان کی معیشت بحران سے تباہی کی طرف جارہی ہے جبکہ ملکی نظام بے قابو ہوتا جارہا ہے'۔ عاطف میاں جنہیں آئی ایم ایف نے دنیا کے 25 ٹاپ نوجوان ماہرِ معیشت میں شامل کیا ہے، وہ اپنے حالیہ ٹوئٹس میں پی ڈی ایم حکومت کی بدانتظامی کو کچھ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں 'اس حکومت نے کسی منصوبہ بندی کے بغیر مرکزی بینک کے گورنر کو تبدیل کر دیا، اپنے ہی تعینات کردہ وزیرِ خزانہ کے خلاف ہو گئے اور آخر میں وزیرِاعظم کے قریبی رشتہ دار کو ان کی جگہ عہدے پر تعینات کر دیا۔۔۔ اہلیت جائے بھاڑ میں'۔ ملک میں جاری سیاسی افراتفری اور اقتدار کے کھیل نے معاشی عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے، اس صورت حال میں ایسا بجٹ دینے کی منطق سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ میں طے کیے جانے والے ریونیو اہداف کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

بہت سے ماہرِ معیشت اتفاق کرتے ہیں کہ یہ اہداف حقیقت کے منافی ہیں۔ ہمارے وزیرِخزانہ اعدادوشمار کے ساتھ کھیلنے کے پرانے کھلاڑی ہیں، یہ رویہ ملک کو مزید گہرے بحران میں دھکیل دے گا۔ ملک کو اس وقت بیان بازی کی نہیں بلکہ دلیرانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے نہیں ہوتے تو ان کے پاس اس حوالے سے پلان بی بھی موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت میں بھی کسی کو اس خفیہ پلان کے حوالے سے علم نہیں ہے۔ اگر وزیرِ خزانہ کو یہ گمان ہے کہ وہ دوست ممالک سے پیسے حاصل کر سکتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے۔ کوئی بھی ملک مفت میں پیسے دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو یہ عارضی طور پر معیشت کو سہارا دے گا لیکن معیشت کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی ساختی مسائل کا حل ثابت نہیں ہو گا۔ موجودہ صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بلخصوص وزیرِخزانہ کو پتا نہیں ہے کہ ملک کس جانب جارہا ہے۔ لوگوں کا نظام پر سے بھروسہ اُٹھ گیا ہے اور بھروسہ کھوکھلے وعدوں سے بحال بھی نہیں جاسکتا۔ وقت تیزی سے ہمارے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔

زاہد حسین  
یہ مضمون 14 جون 2023ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

بشکریہ ڈان نیوز

Comment
Like
Tip icon image You can also reply to this email to leave a comment.

Unsubscribe to no longer receive posts from Pakistan Insider.
Change your email settings at manage subscriptions.

Trouble clicking? Copy and paste this URL into your browser:
https://pakistaninsiders.wordpress.com/2023/06/15/%db%81%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%aa%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88/

WordPress.com and Jetpack Logos

Get the Jetpack app to use Reader anywhere, anytime

Follow your favorite sites, save posts to read later, and get real-time notifications for likes and comments.

Download Jetpack on Google Play Download Jetpack from the App Store
WordPress.com on Twitter WordPress.com on Facebook WordPress.com on Instagram WordPress.com on YouTube
WordPress.com Logo and Wordmark title=

Learn how to build your website with our video tutorials on YouTube.


Automattic, Inc. - 60 29th St. #343, San Francisco, CA 94110  

at June 15, 2023
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

No comments:

Post a Comment

Newer Post Older Post Home
Subscribe to: Post Comments (Atom)

[New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio

...

  • [New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio
    ...
  • [New post] What to do with a hole in the floor?
    PMu posted: "I post a drawing everyday so make sure you follow so you don't miss out on tomorrow's doodle! I...
  • [New post] Jungle Waterfall
    Markosun posted: " Tumpak Sewu, also known as Coban Sewu, is a tiered waterfall that is located between the Pronojiwo D...

Search This Blog

  • Home

About Me

Natureimpactfactor
View my complete profile

Report Abuse

Labels

  • 【ANDROID STUDIO】Await and Async
  • 【FLUTTER ANDROID STUDIO and IOS】animated opacity
  • 【GAMEMAKER】Parallax
  • 【PYTHON】Mean Estimated Accuracy Logistic Regression
  • 【Visual Studio Visual Csharp】Mutex
  • 【Visual Studio Visual VB net】Map Network Drive Wizard

Blog Archive

  • August 2023 (660)
  • July 2023 (866)
  • June 2023 (796)
  • May 2023 (775)
  • April 2023 (809)
  • March 2023 (905)
  • February 2023 (834)
  • January 2023 (905)
  • December 2022 (865)
  • November 2022 (878)
  • October 2022 (940)
  • September 2022 (786)
  • August 2022 (745)
  • July 2022 (823)
  • June 2022 (903)
  • May 2022 (1064)
  • April 2022 (967)
  • March 2022 (786)
  • February 2022 (638)
  • January 2022 (726)
  • December 2021 (1190)
  • November 2021 (3136)
  • October 2021 (3242)
  • September 2021 (3141)
  • August 2021 (3246)
  • July 2021 (3249)
  • June 2021 (3143)
  • May 2021 (301)
Powered by Blogger.