Nature Impact Factor

Wednesday, May 3, 2023

[New post] پاکستان ایک ناکام ریاست ہے؟

Site logo image KHAWAJA UMER FAROOQ posted: "Fund for Peace ایک تھنک ٹینک ہے۔ یہ ایک تحقیقی ادارہ ہے جو ملکوں اور ریاستوں کو سائنسی اور منطقی انداز میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کامیاب یا ناکام قرار دیتا ہے۔ یہ محنت طلب اور دلیل پر مبنی کام ہے۔ کیونکہ کسی بھی صورت میں' کسی بھی ملک کے متعلق غلط بات کرنا" Pakistan Insider

پاکستان ایک ناکام ریاست ہے؟

KHAWAJA UMER FAROOQ

May 4

Fund for Peace ایک تھنک ٹینک ہے۔ یہ ایک تحقیقی ادارہ ہے جو ملکوں اور ریاستوں کو سائنسی اور منطقی انداز میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کامیاب یا ناکام قرار دیتا ہے۔ یہ محنت طلب اور دلیل پر مبنی کام ہے۔ کیونکہ کسی بھی صورت میں' کسی بھی ملک کے متعلق غلط بات کرنا' اپنے آپ کو عذاب میں ڈالنے والی بات ہے۔ چنانچہ ' اس ادارے کو بہت زیادہ احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ یہ امریکی تھنک ٹینک تحقیق حد درجہ محتاط انداز پر کرتا ہے۔ اس میں جذباتیت یا تعصب نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہر سال یہ ادارہ ایک فہرست چھاپتا ہے جس میں مختلف ممالک کی ساخت' کامیابی یا ناکامی کے حساب سے ان کا تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس فہرست کو پہلے Failed State Index کہا جاتا تھا۔ لیکن اب اس کا نام Fragile State Index رکھ دیا گیا ہے۔ مگر مطلب تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ یعنی کمزور ریاستیں یا جنھیں توڑنا مشکل نہ ہو۔ یہ ادارہ ''فارن پالیسی'' کے نام سے ایک رسالہ بھی شایع کرتا ہے۔ اس مرتبہ 179 ملکوں کا ایک جائزہ لیا گیا ہے۔ ہر ملک کو 120 میں سے نمبر دیتے جاتے ہیں' ملک کے نمبر جتنے کم ہوں گے' وہ اتنا ہی مستحکم ہو گا۔

اس تحقیق کے مطابق فن لینڈ دنیا کا سب سے مستحکم اور بہترین ملک ہے۔ اس کے مجموعی نمبر صرف پندرہ ہیں۔ اس کے علاوہ ناروے' آئس لینڈ ' نیوزی لینڈ بھی کم نمبروں کی بدولت استحکام پر مبنی معاشرے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان اس فہرست کے 89.7 ویں نمبر پر ہے' صرف یمن' صومالیہ' ایتھوپیا' عراق' افغانستان اور لیبیا وغیرہ ہم سے نیچے ہیں۔ شمالی کوریا' کینیا اور فلسطین ہم سے کئی گنا بہتر ہیں۔ علم میں نہیں کہ ہمارے ملک میں اس ناکامی اور اس کے اسباب پر کیوں غور نہیں کیا گیا۔ کسی بھی حکومتی یا ریاستی ادارے نے اس رپورٹ کے حقائق کے حساب سے نفی کیوں نہیں کی۔ اس معذوری کی صرف ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ ہمارے متعلق جو کچھ اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے۔ وہ بالکل درست ہے۔ اور اسے غلط ثابت کرنا حکومتی سطح پر ناممکن ہے۔ اب میں ان نکات کی طرف آتا ہوں جو کہ اس مقالہ کی بنیا د ہیں۔ بنیادی طور پر پانچ ایسے ٹھوس نکات ہیں جو قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ان میں ہر ایک کے آگے مزید نکات بھی شامل ہیں۔ سب سے پہلے ان پانچ نکات کو بیان کرتا ہوں۔

Economic, Cohesion (معاشی)' Political (سیاسی) ' Social (سماجی) اور Cross Cutting ۔ یہاں میں ایک اہم ترین عنصر کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہوں۔ تنزلی کا سفر آہستہ آہستہ طے ہوتا ہے۔ یہ بھی نہیں کہ اس ملک میں صلاحیت کی کمی ہوتی ہے۔ مگر اصل مسئلہ قومی صلاحیت کو بروئے کار نہ لانے کا المیہ ہے۔ تمام ناکارہ ریاستوں میں اشرافیہ ' اقتدار اور وسائل پر ناجائز طریقے سے قابض ہو جاتی ہے۔ اور عوام بتدریج غریب سے غریب تر ہوتے جاتے ہیں اور یہ خاموش المیہ' قوموں کو ختم کر دیتا ہے۔ ہاں ' ایک اور حد درجہ تلخ سچ جو اس رپورٹ میں درج ہے۔ وہ یہ کہ ریاستی اور حکومتی ادارے بنیادی طور پر Extractive طرز کے ہوتے ہیں۔ وہ ہر قسم کی جدت کو ختم کرتے ہیں۔ عام لوگوں کے ٹیلنٹ کو برباد کیا جاتا ہے۔ ان پر کامیابی کے تمام راستے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے اشرافیہ Extraction کی بدولت زندہ اور توانا رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اشرافیہ' تمام جمہوری اداروں کو اپنی طرز پر ڈھال لیتی ہے۔ پورے نظام کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتی ہے۔ 

مگر اس رپورٹ کے مطابق ایک بات طے ہے۔ اشرافیہ کی اکثریت' ملک کے ختم یا برباد ہونے کے ساتھ ہی ڈوب جاتی ہے۔ مگر یہ سب کچھ ایک حد درجہ تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ تمام عوامل موجود ہیں۔ چند ممالک کی عملی مثال بھی اس زاویہ کو تقویت دیتی ہے۔ شمالی کوریا' افغانستان' مصر' صومالیہ' کولمبیا' پیرو' بولیویا وغیرہ اس بربادی کی بھرپور مثالیں ہیں۔ مصر کی مثال ہمارے ملک کے قریب ترین ہے۔ مصر میں ریاستی اور حکومتی اداروں کے پاس ملکی معیشت کا پچاس فیصد قبضہ تھا۔ حسنی مبارک کے اقتدار اور اس کے بعد کے عسکری سربراہان نے معیشت کو De-regulate کرنے کی جعلی کوشش کی۔ مگر اس ڈرامے میں اشرافیہ کے چند حلقوں کو تمام وسائل کا مالک بنا دیا گیا۔  حسنی مبارک کا بیٹا جمال' مکمل طور پر صنعتی زار بن گیا۔ تمام صنعت کار جو ریاستی حلقوں کے نزدیک تھے۔ وہ مزید امیر بنا دیے گئے۔ جیسے احمد از کو لوہے کے کارخانے دے دیے گئے' سوارس خاندان ' ٹیلی کمیونیکشن کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ اور محمد نصیر کو میڈیا ڈان کر دیا گیا۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے ان لوگوں اور صنعتی گروپوں کو وہیل مچھلی سے تشبیہہ دی۔ جنھوں نے مصر کی معیشت کو ہڑپ کر لیا۔

پاکستان میں بعینہ یہی مماثلت موجود ہے۔ حکومت کی طرف سے بنائی گئی اشرافیہ ملک کے تمام وسائل کو ناجائز طریقے سے ہڑپ کر چکی ہے۔ اور اس ظلم کو روکنے والا کوئی بھی نہیں ہے' نا فرد اور نا ہی کوئی ادارہ۔ ایک کالم میں تو خیر اس Fragile index کا سرسری تذکرہ بھی نہیں ہو سکتا۔ مگر جو پانچ سنجیدہ نکات شروع میں عرض کیے تھے۔ ان کی حد درجہ معمولی سی تفصیل ضرور درج کرنا چاہتا ہوں۔ Cohesion کے عنوان کے نیچے 'دفاعی مشین ' حصوں میں بٹی ہوئی اشرافیہ اور گروہی رقابتیں شامل کی گئیں ہیں۔ غور سے پرکھیے۔ ہمارا دفاعی نظام' کیا واقعی لوگوں کی حفاظت کر رہا ہے۔ اس میں پولیس اور دیگر ریاستی ادارے بھی شامل ہیں۔ کسی بھی ذی شعور کا جواب منفی میں ہو گا۔ اس طرح مختلف حصوں پر قابض اشرافیہ بڑی مہارت سے عوام کے ایک حصے کو دوسرے کے خلاف لڑوا رہی ہے۔ پھر گروہی رقابتیں بھی عروج پر ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے پاس مسلح ملیشیا موجود ہیں۔ جو ایک دوسرے کے مسالک کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ اب ذرا معاشی صورت حال کی طرف آیئے۔ اس میں معاشی تنزلی 'غربت' ناہموار ترقی اور ذہین لوگوں کا ملک چھوڑنے کا رجحان شامل ہے۔ 

جو اب دیجیے۔ کیا یہ تمام عناصر بھرپور طریقے سے ہمارے سماج میں برہنہ ہو کر رقص نہیں کر رہے۔ غربت عروج پر ہے۔ صنعت دم توڑ چکی ہے۔ ملک کے کچھ علاقے ترقی یافتہ نظر آتے ہیں۔ چند کلو میٹر کی ترقی کے باہر یک دم آپ کو غربت' جہالت اور پسماندگی کے سمندر نظر آتے ہیں۔ جواب دیجیے۔ کیا کوئی شخص ملک میں رہنے کے لیے تیار ہے۔ ہرگز نہیں' ہماری سیاسی قیادت تک پاکستان رہنے کے لیے تیار نہیں۔ اب ذرا سیاسی معاملات کی طرف نظر دوڑائیے جو کہ اس فہرست میں تیسرا حصہ ہے۔ حکومت کا قانونی جواز' عوامی رعایت کے معاملات' انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی' اس کے لازم جزو ہیں۔ اس تیسرے حصے میں کوئی ایک ایسا معاملہ نہیں جس میں ہم لوگ مثبت ڈگر پر چل رہے ہوں۔ سماجی نکتہ میں۔ آبادی کا بڑھنا اور مہاجرین کا عنصر شامل ہے۔ آبادی تو خوفناک طریقے سے مسلسل پھیل رہی ہے۔ اور ہر ملک کے مہاجرین بھی ہر جگہ موجود ہیں۔ آخری نکتہ Crosscutting ہے جس میں بیرونی مداخلت شامل ہے۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ ہم ہر طور پر بیرونی مداخلت بلکہ جنگ کی کیفیت میں ہیں۔ ہماری افغانستان اور ہندوستان بلکہ ایران تک سے بھی لڑائی ہی لڑائی ہے۔

طالب علم نے حد درجہ احتیاط سے کام لے کر پاکستان کا ''ناکام اقوام'' میں معاملہ دلیل کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ دراصل ہم مکمل طور پر ناکام ریاست بن چکے ہیں۔ ہر ذی شعور کو معلوم ہے۔ مگر حکومتی اور ریاستی سطح پر ہم سے بھرپور طریقے سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ سب اچھا تو دور کی بات' کچھ بھی اچھا اور درست سمت میں نہیں ہے۔ ریاستی دروغ گوئی ہمیں اس سطح پر لے آئی ہے۔ کہ غربت' جہالت کے ساتھ ساتھ مسلح جتھے پوری طاقت سے عسکری اداروں سے جنگ کر رہے ہیں۔ کوئی مثبت بات یا خبر بھٹک کر بھی ہمارے سامنے نہیں آتی۔ بین الاقوامی ادارے ہماری اشرافیہ کی ناجائز دولت سے واقف ہیں۔ لہٰذا اب ہمیں کوئی بھی قرض دینے کے لیے تیار نہیں۔ ورلڈ بینک کھل کر کہہ چکا ہے کہ پاکستان ٹیکس اور امداد وصول کر کے اپنی اشرافیہ کو مزید سہولت فراہم کرتا ہے۔ دنیا کا ہر ملک ہمیں منفی انداز میں دیکھتا ہے۔ کسی جگہ پر ہماری کوئی عزت نہیں ہے۔ 

ہم جھوٹ فریب' ریاکاری' دوغلہ پن' منافقت کا وہ ملغوبہ بن چکے ہیں۔ جس کو دیکھ کر مہذ ب ممالک اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ ہم سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ مگر ہم ہیں کہ بڑی ڈھٹائی سے اپنے متعلق کسی منفی عنصر کو خاطر میں نہیں لاتے۔ بلکہ اپنی پہاڑ جیسی غلطیاں تسلیم کرنے کے بجائے ' یہود و ہنود کی سازش کے مفروضہ میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اب شاید پانی سر سے گزر چکا ہے۔ بدقسمتی سے اب ہمارا ملک ایک ناکام ریاست ہے! جس کا کوئی والی وارث نہیں!

راؤ منظر حیات  

بشکریہ ایکسپریس نیوز

Comment
Like
Tip icon image You can also reply to this email to leave a comment.

Unsubscribe to no longer receive posts from Pakistan Insider.
Change your email settings at manage subscriptions.

Trouble clicking? Copy and paste this URL into your browser:
https://pakistaninsiders.wordpress.com/2023/05/04/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85-%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%db%81%db%92%d8%9f/

WordPress.com and Jetpack Logos

Get the Jetpack app to use Reader anywhere, anytime

Follow your favorite sites, save posts to read later, and get real-time notifications for likes and comments.

Download Jetpack on Google Play Download Jetpack from the App Store
WordPress.com on Twitter WordPress.com on Facebook WordPress.com on Instagram WordPress.com on YouTube
WordPress.com Logo and Wordmark title=

Learn how to build your website with our video tutorials on YouTube.


Automattic, Inc. - 60 29th St. #343, San Francisco, CA 94110  

at May 03, 2023
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

No comments:

Post a Comment

Newer Post Older Post Home
Subscribe to: Post Comments (Atom)

[New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio

...

  • [New post] Jungle Waterfall
    Markosun posted: " Tumpak Sewu, also known as Coban Sewu, is a tiered waterfall that is located between the Pronojiwo D...
  • [New post] Woods Hardware Building – Cincinnati, Ohio
    ...
  • [New post] What to do with a hole in the floor?
    PMu posted: "I post a drawing everyday so make sure you follow so you don't miss out on tomorrow's doodle! I...

Search This Blog

  • Home

About Me

Natureimpactfactor
View my complete profile

Report Abuse

Labels

  • 【ANDROID STUDIO】Await and Async
  • 【FLUTTER ANDROID STUDIO and IOS】animated opacity
  • 【GAMEMAKER】Parallax
  • 【PYTHON】Mean Estimated Accuracy Logistic Regression
  • 【Visual Studio Visual Csharp】Mutex
  • 【Visual Studio Visual VB net】Map Network Drive Wizard

Blog Archive

  • August 2023 (660)
  • July 2023 (866)
  • June 2023 (796)
  • May 2023 (775)
  • April 2023 (809)
  • March 2023 (905)
  • February 2023 (834)
  • January 2023 (905)
  • December 2022 (865)
  • November 2022 (878)
  • October 2022 (940)
  • September 2022 (786)
  • August 2022 (745)
  • July 2022 (823)
  • June 2022 (903)
  • May 2022 (1064)
  • April 2022 (967)
  • March 2022 (786)
  • February 2022 (638)
  • January 2022 (726)
  • December 2021 (1190)
  • November 2021 (3136)
  • October 2021 (3242)
  • September 2021 (3141)
  • August 2021 (3246)
  • July 2021 (3249)
  • June 2021 (3143)
  • May 2021 (301)
Powered by Blogger.